دریائے جہلم میں کشتی الٹنے پر وزیر اعلی اور وفاقی وزیر داخلہ کا نوٹس، قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

جہلم: پنڈدادنخان کے علاقہ سگھرپور کے قریب دریائے جہلم میں کشتی الٹنے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نوٹس، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا، ڈپٹی کمشنر جہلم نے حادثہ کی مکمل انکوائری کرانے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے علاقہ سگھر پور سے نورپور میراں ملکوال جانے والی کشتی کا دریائے جہلم میں الٹنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلی مریم نواز نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندان کے ساتھ ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی دریائے جہلم میں کشتی الٹنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
محسن نقوی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افسوسناک واقعہ میں ایک ہی خاندان کے 4 بچوں اور 2 خواتین کے جاں بحق ہونے پر دلی دکھ ہوا ہے، سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
ادھر ڈپٹی کمشنر جہلم سیدہ رملہ علی نے پنڈدادنخان کے علاقے سگھر پور میں اوور لوڈنگ کے باعث نورپور میراں کے قریب دریائے جہلم میں کشتی ڈوبنے، چار بچوں اور دو خواتین سمیت چھ افراد کی ہلاکت پر فوری نوٹس لیتے ہوے کشتی مالکان کا کنٹریکٹ کینسل کرکے بلیک لسٹ کر تے ہوئے انکوائری کا حکم دے دیا۔
ڈی سی جہلم سیدہ رملہ علی نے سگھر پور کے قریب دریائے جہلم میں کشتی ڈوبنے کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے گی، چھوٹی کشتی میں مسافروں کے ساتھ گاڑیوں کی لوڈنگ کیوں کی گئی، اس سلسلہ میں ڈی پی او جہلم اور منڈی بہاؤالدین انکوائری کریں گے۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے علاقہ سگھرپور سے منڈی بہاؤالدین کے علاقہ ملکوال جانے والے کشتی نورپور پیراں والا کے قریب اوورلوڈ ہونے کے باعث اپنا توازن کھو بیٹھنے سے دریائے جہلم میں ڈوب گئی۔ کشتی میں کیری ڈبہ، موٹرسائیکلیں اور دیگر سامان سمیت 30 سے زائد افراد سوار تھے جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔
کشتی نور پور پیراں والا کے قریب دریا کے کنارے پر ڈوبی جس کے باعث چار بچے اور دو خواتین دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئیں جبکہ زیادہ تر مسافروں کو مقامی افراد نے بچالیا۔



