صوبائی وزیر تعلیم سرکاری اساتذہ کے بارے میں بیان دیتے وقت احتیاط کریں، مرزا عبدالغفار

پڑی درویزہ: پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جہلم کے جنرل سیکرٹری مرزا عبدالغفار نے پنجاب بھر کے سرکاری اساتذہ کے حق میں مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم کے اساتذہ سے متعلق مبینہ توہین آمیز بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں مرزا عبدالغفار نے کہا کہ صوبائی وزیر تعلیم کو سرکاری اساتذہ کے متعلق بیانات دیتے وقت ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ معاشرے کا سب سے معزز طبقہ ہیں اور ان کی خدمات کو نظرانداز یا ان کی تضحیک کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے دراصل ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں اور جب حکومتی وزراء اپنے ہی اداروں کے ملازمین کی کارکردگی پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا شروع کر دیں تو یہ طرزِ عمل نہ صرف اداروں کا مورال متاثر کرتا ہے بلکہ حکومتی سنجیدگی پر بھی سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسے بیانات کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

مرزا عبدالغفار نے کہا کہ سرکاری اساتذہ کو معاشرے میں باوقار مقام دلانے کا اعزاز پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو مضبوط بنیادیں فراہم کی گئیں اور سرکاری ملازمین کو تحفظ اور عزت دی گئی، جس کے ثمرات آج بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آج سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر تنقید کی جا رہی ہے تو اس کے اسباب کا جائزہ بھی لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق "مار نہیں پیار” پالیسی، طلبہ کو بلا امتحان پروموٹ کرنے کے رجحان، تدریسی نظم و ضبط سے متعلق پابندیوں اور سو فیصد نتائج کے دباؤ نے تعلیمی نظام اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔

پیپلز پارٹی رہنما نے حکومت پنجاب کی سورس آؤٹ اور نجکاری پالیسیوں کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسیاں سرکاری اداروں کی کمزوری اور تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ان پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور سرکاری اداروں کے استحکام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔

مرزا عبدالغفار نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کی نگرانی کے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں محدود انتظامی افسران پورے اضلاع اور تحصیلوں کے تعلیمی اداروں کی نگرانی مؤثر انداز میں کرتے تھے، جبکہ آج ایک ہی یونین کونسل میں متعدد انتظامی حلقے قائم کر دیے گئے ہیں، جس سے غیر ضروری انتظامی بوجھ اور اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اگر واقعی سرکاری اداروں کی بہتری اور عوامی مفاد کی خواہاں ہے تو اسے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کرنی چاہیے اور اساتذہ سمیت تمام سرکاری ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔

مرزا عبدالغفار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اساتذہ، سرکاری ملازمین اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button