سوہاوہ: نیا تعلیمی سال شروع ہوتے ہی والدین کے لیے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ایک بڑے مالی امتحان کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ بچوں کی نئی جماعتوں کے لیے کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور سکول بیگز کی خریداری لازمی ہونے کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سوہاوہ اور گردونواح میں بک سیلرز کی جانب سے من مانے نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔ سو روپے والی کاپی 200 سے 250 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے جبکہ ہوم ورک ڈائری، جو عام مارکیٹ میں 80 سے 100 روپے میں دستیاب ہے، مختلف نجی سکولز کے لوگو لگا کر 600 سے 700 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔
اسی طرح درسی کتب بھی مخصوص سکولز کے نام اور لوگو کے ساتھ 30 سے 50 فیصد زائد قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ کئی نجی تعلیمی ادارے والدین کو مخصوص دکانوں سے ہی کتابیں، کاپیاں اور یونیفارم خریدنے کا پابند بنا رہے ہیں۔
شہریوں کے مطابق ایک چھوٹی کلاس کا مکمل تعلیمی سیٹ، جو گزشتہ برس 6 سے 7 ہزار روپے میں مل جاتا تھا، اب 13 سے 15 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔
متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے اس دور میں یہ اضافی بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے، جبکہ متعلقہ ادارے اس صورتحال پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔
عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کتابوں اور کاپیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، نجی سکولز کی جانب سے مخصوص دکانوں سے خریداری کی شرط ختم کروائی جائے اور اس “کتب مافیا” کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ والدین کو ریلیف مل سکے۔
