سوہاوہ کی حدود میں پاکستان پوسٹ کے 16 برانچ پوسٹ آفس بند، سابقہ 45 ماہ کے اعزازیہ معاوضے تاحال واجب الادا

پڑی درویزہ: پاکستان پوسٹ کی جانب سے تحصیل سوہاوہ کی حدود میں قائم 16 برانچ پوسٹ آفس بند کیے جانے کے بعد سابقہ برانچ پوسٹ ماسٹرز اور ڈاک رنرز کے اعزازیہ معاوضوں کی ادائیگی کا معاملہ بھی سامنے آ گیا ہے۔

متاثرہ افراد کے مطابق گزشتہ 45 ماہ، یعنی تین سال اور نو ماہ کا معاوضہ تاحال ادا نہیں کیا گیا، جس کے باعث بعض سابقہ برانچ پوسٹ ماسٹرز نے اپنے واجبات کی ادائیگی کے لیے متعلقہ حکام کو تحریری درخواستیں ارسال کر دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قیامِ پاکستان کے بعد دور دراز دیہی علاقوں میں ڈاک کی ترسیل کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مقامی افراد کو اعزازی بنیادوں پر برانچ پوسٹ ماسٹرز اور ڈاک رنرز کے طور پر خدمات سونپی گئی تھیں۔ اس انتظام کے تحت مختلف دیہی علاقوں میں برانچ پوسٹ آفس قائم کیے گئے تاکہ لوگوں کو اپنے علاقوں میں ڈاک کی سہولت میسر ہو اور انہیں ڈاک بھیجنے یا وصول کرنے کے لیے دور دراز بڑے ڈاکخانوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔

انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق، ملک بھر میں بڑی تعداد میں افراد اعزازی معاوضے کے عوض ڈاک کی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ تاہم متاثرہ افراد کے مطابق گزشتہ تقریباً چار سال کے دوران نامعلوم وجوہات کی بنا پر برانچ پوسٹ ماسٹرز اور ڈاک رنرز کو ادا کیا جانے والا ماہانہ اعزازی معاوضہ بند کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ کوششوں کے باوجود واجبات کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکی اور ہر بار اعلیٰ حکام کی جانب سے فنڈز کی عدم دستیابی کا عذر پیش کیا جاتا رہا۔

اب ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ سرکل راولپنڈی کی جانب سے اعزازی بنیادوں پر خدمات انجام دینے والے برانچ پوسٹ ماسٹرز کو ایک مراسلہ موصول ہوا ہے، جس میں مطلع کیا گیا ہے کہ 16 اگست 2026ء سے متعلقہ برانچ پوسٹ آفس بند کر دیے گئے ہیں۔ مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ ہر برانچ پوسٹ ماسٹر اپنے پاس موجود سرکاری سامان باضابطہ طور پر قریبی بڑے ڈاکخانے میں جمع کرائے۔

اس صورتِ حال پر بعض سابقہ برانچ پوسٹ ماسٹرز نے پاکستان پوسٹ کے ضلعی حکام کو تحریری درخواستیں ارسال کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سرکاری سامان متعلقہ ڈاکخانوں میں واپس جمع کرانے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس سے قبل ان کے سابقہ واجبات ادا کیے جائیں۔ ان کے مطابق یہ بقایاجات مجموعی طور پر 45 ماہ، یعنی تین سال اور نو ماہ کے عرصے پر محیط ہیں۔

متاثرہ برانچ پوسٹ ماسٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری سامان کی واپسی اور دیگر دفتری امور کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ان کے طویل عرصے سے رکے ہوئے اعزازیہ معاوضوں کی ادائیگی کے معاملے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے طویل عرصے تک دیہی علاقوں میں ڈاک کی ترسیل اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خدمات انجام دیں، اس لیے ان کے واجب الادا معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

متاثرہ افراد نے پاکستان پوسٹ کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، بقایاجات کی ادائیگی کے لیے واضح لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور متعلقہ ملازمین کے مالی مسائل حل کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button