جہلم میں غیر قانونی ایل پی جی گیس کی فروخت میں اضافہ

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں غیر قانونی ایل پی جی گیس فروخت کرنے والی دکانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کی خاموشی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شہر کے گنجان آباد علاقوں، گلی محلوں اور مختلف تجارتی مراکز میں غیر قانونی طور پر ایل پی جی گیس سلنڈرز کی ری فلنگ اور فروخت کا کاروبار کھلے عام جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر قائم کی گئی یہ دکانیں کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔
مقامی شہریوں کے مطابق اندرون شہر سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں جگہ جگہ قائم غیر قانونی ایل پی جی پوائنٹس پر سلنڈرز کی بھرائی کا عمل جاری ہے، جس سے انسانی جانوں اور املاک کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رہائشی آبادیوں میں اس قسم کی سرگرمیاں کسی بھی وقت آتشزدگی یا دھماکے جیسے سانحات کو جنم دے سکتی ہیں۔
شہری حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ ادارے اس سنگین مسئلے پر مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں، جس کے باعث غیر قانونی کاروبار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں قائم غیر قانونی ایل پی جی گیس ری فلنگ مراکز کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ غیر قانونی ایل پی جی کاروبار کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے اور صرف لائسنس یافتہ اور محفوظ مراکز کو ہی گیس کی فروخت کی اجازت دی جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔



