جہلم شہر میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچنے کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ ایک طرف شہریوں کو سوئی گیس کی قلت اور کم پریشر کا سامنا ہے تو دوسری جانب ایل پی جی مبینہ طور پر مقررہ سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم جہلم شہر میں پرچون سطح پر ایل پی جی 430 سے 480 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ سرکاری نرخوں اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان نمایاں فرق پایا جاتا ہے، لیکن اس صورتحال پر مؤثر نگرانی دکھائی نہیں دے رہی۔
شہریوں کے مطابق سوئی گیس کے بھاری بھرکم بل ادا کرنے کے باوجود انہیں مطلوبہ گیس دستیاب نہیں ہوتی، جس کے باعث کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے داموں ایل پی جی خریدنا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی سفید پوش طبقے کی مشکلات بڑھا رکھی ہیں اور اب گیس کے اخراجات میں اضافے نے گھریلو بجٹ مزید متاثر کر دیا ہے۔
شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی فروخت کو سرکاری نرخوں کے مطابق یقینی بنایا جائے، قیمتوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مارکیٹ میں مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم کیا جائے تاکہ عوام کو اضافی مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب شہر میں روٹی کی قیمت میں اضافے نے بھی شہریوں کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ شہریوں کے مطابق پہلے 13 روپے میں فروخت ہونے والی روٹی کی قیمت میں 7 روپے اضافہ کر کے اسے 20 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیمت بڑھانے کے ساتھ روٹی کے لیے استعمال ہونے والے آٹے کے پیڑے کا وزن بھی کم کر دیا گیا ہے، جس سے صارفین کو دوہری مشکلات کا سامنا ہے۔
تندور مالکان کا موقف ہے کہ آٹے کے ساتھ میدے کی بوری کی قیمت میں بھی اضافہ ہو چکا ہے اور آٹا ہر ہفتے مہنگا ہونے کے باعث کاروباری اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوئی گیس کی عدم دستیابی کے باعث انہیں تندور چلانے کے لیے گیس سلنڈروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے اخراجات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ پرائس کنٹرول حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی اور روٹی کی قیمتوں کا فوری نوٹس لیا جائے، روٹی کے وزن اور مقررہ نرخوں کی جانچ کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
