200 یونٹ کے بعد بجلی کا بل دگنا، مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کی آہیں بلند

جہلم: حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ کی حد پار کرنے پر ڈبل چارجز لاگو کرنے پر عوامی حلقوں، سماجی، رفاحی اور فلاحی تنظیموں نے شدید تشویش اور احتجاج کا اظہار کیا ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہری عمائدین نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی سے پریشان حال عوام کو اب بجلی کے بلوں نے مزید زندہ درگور کر دیا ہے۔

شہریوں نے بتایا کہ حکومت نے ایسی پالیسی نافذ کر دی ہے جس کے تحت اگر کوئی صارف 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتا ہے تو اس کا بل تقریباً 3 ہزار روپے آتا ہے، لیکن اگر یہی یونٹ 201 ہو جائیں تو بل اچانک 8 ہزار روپے تک جا پہنچتا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر کسی صارف کا ایک بار یونٹ 200 سے تجاوز کر جائے، تو اگلے 6 ماہ تک اسے ہر مہینے اسی بنیاد پر ڈبل بل ادا کرنا ہوگا۔

سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صارفین شدید گرمی میں اپنے بچوں کو پنکھے کی ہوا دینے سے بھی گریزاں ہیں کیونکہ انہیں خوف ہے کہ بجلی کا بل ان کی مالی استطاعت سے باہر نہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی عوام کش اور ظالمانہ پالیسیوں نے غریب، نادار اور سفید پوش طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل کر دیا ہے۔

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایسی پالیسیاں واپس لی جائیں جو غریبوں پر معاشی بوجھ ڈال رہی ہیں، اور بجلی کے بلوں کو حقیقت پسندانہ اور طبقاتی فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ازسرنو ترتیب دیا جائے تاکہ عوام کم از کم اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button