موبائل پیکج ہونے کے باوجود ہیلپ لائن کال کیلئے الگ بیلنس شرط قرار دینا صارفین سے زیادتی ہے، عوامی حلقے

پڑی درویزہ:  موبائل فون میں ماہانہ پیکچ ہونے باوجود کسی بھی ہیلپ لائن پر کال کرنے لئے نئے سرے سے ریچارج کرنے کی ہدایت صارفین سے سرا سر زیادتی ہے ۔

موبائل صارفین نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ ماہانہ موبائل پیکج رکھنے والے صارفین کو ہیلپ لائن نمبرز پر کال کرنے کے لیے اضافی بیلنس کی شرط ختم کی جائے۔

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے بعد اس وقت مختلف سیلولر کمپنیاں موبائل فون سروسز فراہم کر رہی ہیں، جبکہ ہر کمپنی کی جانب سے صارفین کے لیے ماہانہ کال، انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس پیکجز بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔

موبائل صارفین کی جانب سے میڈیا کو دی گئی شکایات میں کہا گیا ہے کہ بیشتر افراد ماہانہ پیکج استعمال کرتے ہیں، تاہم جب وہ کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں اضافی بیلنس ریچارج کرنے کی ہدایت موصول ہوتی ہے۔

صارفین کے مطابق ہیلپ لائن کالز کے لیے فی کال اضافی چارجز وصول کیے جاتے ہیں جبکہ نمائندے سے بات کرنے کے لیے کئی کئی منٹ انتظار بھی کرنا پڑتا ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب صارفین پہلے ہی ماہانہ پیکج کی فیس ادا کر رہے ہوتے ہیں تو ہیلپ لائن کالز کے لیے الگ بیلنس کی شرط سراسر زیادتی ہے۔

صارفین نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے موبائل کمپنیوں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ ماہانہ پیکج رکھنے والے صارفین کو اسی پیکج کے تحت تمام ہیلپ لائن نمبرز پر کال کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔

صارفین نے امید ظاہر کی ہے کہ پی ٹی اے اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے گی تاکہ عوام کو اضافی مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔

Exit mobile version