سوہاوہ بار ایسوسی ایشن کا اعزاز؛ محمد زبیر چوہدری ہائی کورٹ ڈگری سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ مقرر

سوہاوہ: راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس میں راولپنڈی ڈویژن کی تمام تحصیل و ضلع بارز، بشمول میانوالی، سرائے عالمگیر اور دیگر علاقوں کی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کی صدارت صدر ہائی کورٹ بار احسن حمید ایڈووکیٹ نے کی، جبکہ میزبانی کے فرائض جنرل سیکرٹری خلیل احمد اعوان ایڈووکیٹ نے انجام دیے۔
اجلاس کا مرکزی موضوع وکلاء کو درپیش مسائل، بارز کی تنظیم نو، پیشہ ورانہ اقدار کا تحفظ، اور بالخصوص جعلی ڈگری رکھنے والے وکلاء کے خلاف مؤثر اقدامات تھا۔ اس موقع پر سوہاوہ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر محمد زبیر چوہدری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کو راولپنڈی ڈویژن کی ڈگری سکروٹنی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔
یہ کمیٹی جعلی ڈگری والے وکلاء کی نشاندہی، تصدیق اور ان کے خلاف کارروائی کا مکمل لائحہ عمل مرتب کرے گی۔ کمیٹی میں راولپنڈی ڈویژن کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے جنرل سیکرٹریز بطور رکن شامل ہوں گے، اور اسے مکمل خودمختار اور غیر جانبدار حیثیت حاصل ہوگی تاکہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے شفاف تحقیقات کو یقینی بنا سکے۔
اجلاس میں شرکاء نے سوہاوہ بار کی گزشتہ برسوں میں جعلی وکلاء کے خلاف کی گئی سرگرم کارروائیوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اب یہ عمل ڈویژن کی سطح پر مزید مؤثر اور منظم ہوگا۔
محمد زبیر چوہدری ایڈووکیٹ نے اس موقع پر اعتماد کے اظہار پر ہائی کورٹ بار قیادت، تمام بارز، اور صدر و جنرل سیکرٹری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "یہ میرے لیے ایک اعزاز ہے کہ مجھے اس اہم ذمہ داری کے لیے چنا گیا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ کمیٹی پوری دیانت داری اور غیر جانبداری سے کام کرے گی۔ ہمارا مقصد صرف احتساب نہیں بلکہ پیشہ وارانہ شفافیت، عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کی بحالی اور وکلاء کے وقار کا تحفظ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ کامیابی صرف میری نہیں بلکہ سوہاوہ بار اور اُن تمام احباب کی ہے جو میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے رہے۔ ہم نے ہمیشہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور آئندہ بھی قانون و انصاف کے تقاضوں کو اولین ترجیح دیں گے۔”
شرکاء نے اس پیش رفت کو وکلاء برادری کے لیے ایک تاریخی موڑ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ قدم مستقبل میں عدالتی نظام کی شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو مزید بلند کرے گا۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا گیا کہ وکالت کے مقدس پیشے کو جعلی عناصر سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔



