پٹرولیم مصنوعات سستی مگر اشیائے ضروریہ بدستور مہنگی، عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے

جہلم: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود جہلم شہر اور گردونواح میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بدستور آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے باعث غریب، نادار، دیہاڑی دار اور محنت کش طبقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔

شہریوں کے مطابق بازاروں میں چینی 150 روپے فی کلو، گھی 550 روپے فی کلو، دودھ 220 روپے فی لیٹر اور روٹی 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مہنگائی کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ ایک جانب حکومت نئے ٹیکسز اور مہنگائی کے بوجھ سے شہریوں کو مسلسل دباؤ کا شکار کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب گران فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کے باوجود اس کے ثمرات عام صارف تک منتقل نہیں کیے جا رہے۔

شہریوں کے مطابق مسلسل بڑھتی مہنگائی، یوٹیلٹی بلوں اور ٹیکسوں نے عام آدمی کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ دیہاڑی دار مزدور اور کم آمدنی والے افراد کے لیے اپنے اہل خانہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی دشوار ہو چکا ہے۔

شہریوں، مزدوروں اور محنت کش طبقے نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے ثمرات براہِ راست عوام تک منتقل کرنے کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں فوری کمی کرائی جائے، گرانفروشوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور پرائس کنٹرول نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button