بغیر حقائق جانے ہمیں کوئی بھی پوسٹ شیئر کرنے سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے، شرکاء

پنڈدادنخان: بغیر حقائق جانے ہمیں کوئی بھی ایسی پوسٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا کسی گروپ میں شیئر کرنے سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے بعد ازاں اخلاقی یا قانونی طور پر پریشانی کا باعث بنے۔ ضروری نہیں کہ کسی بھی ذریعے سے آپ تک پہنچنے والی تصویر، خبر،وڈیو یا معلومات کی حقیقت وہی ہو جو نظر آرہی ہو یا پھر آپ کو دیکھانے کی کوشش کی جارہی ہو۔

اسی سلسلہ میں پاکستان پارٹنر شپ انیشٹیو اور منارٹیز واچ کے زیر اہتمام کرسچن میڈیا انفلونسر کی ورکشاپ میں سینئر صحافی و اینکر پرسنز عمر چیمہ، اعزاز سید اور سبوخ سید نے صحافیوں، سٹوڈنٹس اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے کرسچن میڈیا انفلونسر گروپ سے مس انفارمیشن، ڈس انفارمیشن اور سوشل میڈیا کے اچھے اور برے استعمال پر گفتگو کی۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ کیسے ہم سوشل میڈیا کے ذریعے ان چیزوں کو روک سکتے ہیں جو معاشرے میں نہ صرف مذہبی و سماجی حوالے سے بگاڑ اور انتشار کا سبب بنتی ہیں بلکہ بعض اوقات اس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے عالمی سطح پر بھی ملکی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔

ورکشاپ کے شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے سابق ممبر قومی اقلیتی کمیشن البرٹ ڈیوڈ نے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر کرسچن میڈیا انفلونسر کی طرف سے شروع کی گئی مہم کا خیر مقدم کیا اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی فیک نیوز سب سے زیادہ ہم کو متاثر کرتیں ہیں انہوں نے اس آگاہی مہم میں اپنے ہر طرح کے تعاون کی یقین دھانی بھی کرائی۔

ورکشاپ کے آخر میں سینئرصحافی طارق چمن کی طرف سے اشرف مل چیف ایگزیکٹو پاکستان پارٹنر شپ انیشٹیو پراجیکٹ کوآرڈینیٹر عاشر گل کا کرسچن میڈیا انفلونسر ورکشاپ کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور ورکشاپ کے تمام شرکاء کو سرٹیفکیٹ بھی دیئے گئے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button