جہلم میں گداگروں کی بھرمار، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

جہلم شہر اور اس کے گردونواح میں گداگروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔

مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں خریداری کے لیے آنے والے شہریوں، بالخصوص خواتین، بزرگوں اور بچوں کو مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

صبح ہوتے ہی شہر کے مصروف چوک چوراہوں، پبلک مقامات، سرکاری و نجی اداروں کے اطراف، بازاروں اور گلی محلوں میں گداگر بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ گداگر نہ صرف بار بار بھیک مانگتے ہیں بلکہ انکار کی صورت میں بددعا دینے یا ناپسندیدہ رویہ اختیار کرنے لگتے ہیں، جس سے ماحول میں بے چینی اور کوفت پیدا ہو رہی ہے۔

شہریوں کے مطابق نو عمر لڑکے اور لڑکیاں بھی بھیک مانگنے میں پیش پیش ہیں، جو بعض اوقات راہگیروں کا راستہ روک کر منت سماجت کرتے ہیں۔ بازاروں میں خریداری کے لیے آنے والی خواتین کو بھی بیچ بازار روکے جانے کے باعث ذہنی دباؤ اور دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گداگری کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث نہ صرف شہریوں کو پریشانی لاحق ہے بلکہ شہر کے مجموعی نظم و ضبط اور سماجی ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گداگری کے تدارک کے لیے مؤثر اور مستقل اقدامات کیے جائیں، تاکہ عوام کو اس مسئلے سے نجات مل سکے اور شہر میں ایک باوقار اور پُرامن ماحول قائم ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button