جہلم: بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کے لیے کھادوں کے استعمال سے متعلق سفارشات جاری

جہلم: محکمہ زراعت پنجاب نے بارانی علاقوں میں گندم کی بہتر پیداوار کے حصول کے لیے کھادوں کے متوازن استعمال سے متعلق سفارشات جاری کر دی ہیں۔

محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق بارش کی مقدار اور علاقے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاشتکاروں کو گندم کی بوائی سے قبل زمین کی تیاری کے دوران مخصوص مقدار میں کھادیں استعمال کرنی چاہئیں تاکہ فصل کی بہتر نشوونما اور پیداوار کو یقینی بنایا جا سکے۔

ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کم بارش والے بارانی علاقوں، جن میں راجن پور، لیہ، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، بھکر، میانوالی، جنڈ، پنڈی گھیب اور خوشاب کے بارانی علاقے شامل ہیں، کے کاشتکار گندم کی بوائی سے قبل زمین کی تیاری کے وقت فی ایکڑ ایک بوری ڈی اے پی، ایک بوری یوریا اور آدھی بوری ایس او پی یا ایم او پی استعمال کریں۔

اسی طرح درمیانی بارش والے علاقوں، جن میں چکوال، تلہ گنگ اور پنڈ دادن خان کے علاقے شامل ہیں، کے لیے فی ایکڑ سوا بوری ڈی اے پی، سوا بوری یوریا اور آدھی بوری ایس او پی استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایا کہ زیادہ بارش والے علاقوں، جن میں راولپنڈی، اٹک، جہلم، نارووال، سوہاوہ، گجرات، کھاریاں اور شکرگڑھ کے علاقے شامل ہیں، میں کاشتکار گندم کی کاشت سے قبل فی ایکڑ ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، ڈیڑھ بوری یوریا اور ایک بوری ایس او پی یا ایم او پی استعمال کریں۔

ترجمان کے مطابق گندم کی ڈرل کے ذریعے کاشت اور بوائی کے وقت کھاد ڈالنے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ کھاد پودوں کی جڑوں کے قریب پہنچتی ہے اور فصل کو غذائی اجزا بہتر انداز میں حاصل ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے کھاد کے ضیاع کو کم کرنے اور فصل کی بہتر نشوونما میں مدد مل سکتی ہے۔

محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ تمام تجویز کردہ کھادیں زمین کی تیاری کے وقت استعمال کریں اور اپنے علاقے میں بارش کی صورتحال کے مطابق سفارشات پر عمل کریں تاکہ گندم کی فصل کی بہتر نشوونما اور زیادہ پیداوار کے حصول میں مدد مل سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button