محکمہ ایکسائز کی سست روی کے باعث رجسٹریشن کارڈز بننا بھی بند ہو گئے

جہلم: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی سست روی کے باعث رجسٹریشن کارڈز بننا بھی بند ہو گئے۔
شہری کارڈز کی فیس بھرنے کے باوجود اہم کوائف سے محروم جبکہ ہزاروں سے زائد کارڈز فراہم کرنے والی کمپنی نے کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد فیکٹری کا کام بند کر دیا۔
افسران کی سستی کی وجہ سے کنٹریکٹ ختم ہونے کے 5 ماہ بعد تاحال نئے کنٹریکٹ کا پراسس نہیں کیاجا سکا ۔ 5 سال قبل رجسٹریشن کارڈز کی تیاری کا کیا گیا کنٹریکٹ مئی میں ختم ہونے کے بعد متعلقہ کمپنی نے عارضی توسیع کے بعد 4لاکھ کارڈز فراہم کئے اور ایگریمنٹ کے مطابق ڈیمانڈ پوری کر کے رپورٹ بھجوائی ، 80 ہزار سے زائد رجسٹریشن کارڈز کی 3 کروڑ سے زائد رقم بھی دینے کا مراسلہ بھجوادیا۔
ایکسائز ذرائع کے مطابق کمپنی کے ساتھ 438 روپے فی کارڈ فراہمی کا پانچ سالہ معاہدہ کیا گیا تھا۔ بروقت رجسٹریشن کارڈز کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا گیا تونمبر پلیٹس کے بعد سمارٹ کارڈز کا بحران سنگین ہو جائے گا۔ شہریوں کی ہزاروں، لاکھوں نمبر پلیٹس پہلے سے التوا کا شکار ہیں جبکہ رجسٹریشن کارڈز بھی بھاری تعداد میں زیر التوا ہیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نمبر پلیٹس تیار کرنے والی کمپنی نے معاہدہ ختم ہونے کے بعد نمبرز پلیٹس تیار کرنے کا کام بند کردیاہے۔



