جرأت کی داستان

پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے ایک ایسے ناسور کا سامنا کر رہا ہے جس نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں نگل لیں بلکہ پورے معاشرے کی نفسیات، معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بھی بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ خودکش حملوں، مساجد، اسکولوں اور عوامی مقامات پر ہونے والی خونریزی نے ایک طویل عرصے تک قوم کو خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا رکھا۔ لیکن اس تمام تر تاریکی کے باوجود ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں رہی کہ اس ملک کے غیور عوام، سپاہی، پولیس اہلکار اور مزدور کبھی دشمن کے سامنے نہیں جھکے۔

جنڈ کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے شہید لیاقت کی حالیہ بہادری اسی قومی تاریخ کا ایک درخشاں تسلسل ہے۔ لیاقت ایک عام دیہاتی تھا، جس کے پاس نہ کوئی سرکاری اختیار تھا، نہ جدید اسلحہ اور نہ ہی کوئی حفاظتی حصار۔ اس کے پاس اگر کچھ تھا تو وہ صرف ’’ایمان کی دولت‘‘ اور ’’وطن کی مٹی سے وفا‘‘ کا جذبہ تھا۔ اس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر خودکش بمبار کو روکنے کی کوشش کی اور ایک بڑی تباہی کو اپنے سینے پر روک لیا۔

یہ عمل محض ایک فرد کی جرات نہیں بلکہ اس اجتماعی قومی شعور کا اظہار ہے جو پاکستان کے ہر عام انسان کے اندر زندہ ہے۔ ایسے لوگ کسی سیاسی نعرے کے تحت نہیں بلکہ خالصتاً انسانیت کی بقا کے لیے قربانی دیتے ہیں۔ جہاں ہماری افواجِ پاکستان، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، وہیں شہید لیاقت جیسے عام شہریوں کا کردار بھی گمنام مگر نہایت عظیم ہے۔

خوشحال گڑھ چیک پوسٹ پر اٹک پولیس کا فوری ردِعمل اور وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شہید لیاقت کو خراجِ تحسین پیش کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست اپنے اصل ہیروز کو پہچانتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایسی ہی اجتماعی بیداری اور عوامی تعاون سے جیتی جا سکتی ہے۔

آج جب دنیا بھر میں انتہاپسندی نئی شکلیں اختیار کر رہی ہے، پاکستان کا تجربہ ایک مثال بن کر ابھرا ہے۔ ہم نے بے پناہ نقصان اٹھایا مگر ہمارے بازار بھی آباد رہے اور تعلیمی ادارے بھی کھلے رہے۔ اس مزاحمت کے پیچھے شہید لیاقت جیسے وہ خاموش ستون ہیں جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔

اعتزاز حسن شہید ہو یا لیاقت شہید، پاکستان کی مٹی آج بھی ایسے بہادر سپوت پیدا کر رہی ہے جو خطرے کے وقت پیچھے ہٹنے کے بجائے سینہ تان کر آگے بڑھتے ہیں۔ یہی لوگ اس ملک کی اصل طاقت ہیں اور یہی قربانیاں ہمارے مستقبل کی ضامن ہیں۔ شہید لیاقت کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب تک قوم کا ہر فرد بیدار ہے، کوئی دشمن اس وطنِ عزیز کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

 

 

 

نوٹ: لکھاری شہزاد احمد ورک محکمہ تعلقاتِ عامہ ضلع جہلم میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

Exit mobile version