عوامی مسائل، حکومتی توجہ اور بلال اظہر کیانی کی کھلی کچہریاں

عوامی نمائندے اور حکومتی عہدیدار اگر اپنے دفاتر کی چار دیواری سے نکل کر براہِ راست عوام کے درمیان بیٹھیں، ان کے مسائل سنیں اور موقع پر متعلقہ افسران کو احکامات جاری کریں تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے بلکہ حکومتی اداروں کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔ وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی کی جانب سے کھلی کچہریوں کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک مثبت اور قابلِ تحسین کوشش ہے۔

مجھے سوہاوہ میں منعقد ہونے والی کھلی کچہری میں شرکت کا اتفاق ہوا اور آج ضلع کونسل جہلم میں ہونے والی کھلی کچہری میں بھی موجود رہا۔ دونوں مواقع پر ایک بات نمایاں نظر آئی کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگ اپنے مسائل کے حل کی امید لے کر یہاں پہنچتے ہیں۔ کسی کو سرکاری محکمے سے متعلق شکایت تھی، کسی کا دیرینہ مسئلہ حل طلب تھا، تو کوئی اپنے جائز حق کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کی توجہ چاہتا تھا۔

کھلی کچہری کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ عام آدمی کو اپنی بات براہِ راست حکام تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ بعض اوقات ایک چھوٹا سا مسئلہ دفاتر کے چکر لگاتے لگاتے شہری کے لیے ایک بڑی پریشانی بن جاتا ہے، لیکن جب وہی مسئلہ متعلقہ افسران کے سامنے موقع پر رکھا جائے تو اس کے حل کی راہ نکل آتی ہے۔

وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی کی مصروفیات اپنی جگہ، لیکن اس کے باوجود عوام کے درمیان بیٹھ کر ان کے مسائل سننا یقیناً ایک مثبت عمل ہے۔ آج کی کھلی کچہری میں بھی مختلف سرکاری اداروں کے سربراہان اور متعلقہ افسران کو ایک ہی جگہ بٹھایا گیا تاکہ شہریوں کے مسائل پر براہِ راست بات ہو سکے۔ مختلف معاملات پر موقع پر احکامات جاری کیے گئے، جس سے لوگوں کو یہ احساس ملا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور ان کے مسائل کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کھلی کچہری صرف اس وقت کامیاب سمجھی جائے گی جب یہاں کیے گئے احکامات عملی شکل بھی اختیار کریں۔ عوامی مسائل سننا پہلا مرحلہ ہے، ان مسائل کا مستقل اور میرٹ پر حل اصل کامیابی ہے۔ اگر کسی شہری کو کھلی کچہری میں یقین دہانی کرائی جائے اور متعلقہ ادارہ مقررہ وقت میں اس پر عمل درآمد کرے تو اس سے عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔

آج کھلی کچہری میں آنے والے لوگوں کے چہروں پر ایک امید نظر آئی۔ یہ امید اس بات کی کہ شاید ان کا برسوں پرانا مسئلہ اب حل ہو جائے گا، شاید کسی دفتر کے چکر ختم ہوں گے اور شاید انہیں اپنے جائز حق کے لیے مزید دروازے نہ کھٹکھٹانے پڑیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کھلی کچہریوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی ان میں دی جانے والی ہدایات اور احکامات پر عمل درآمد کی بھی باقاعدہ نگرانی ہونی چاہیے۔ عوامی نمائندوں کا عوام کے درمیان بیٹھنا جمہوریت کا خوبصورت چہرہ ہے اور سرکاری افسران کا شہریوں کے سامنے جوابدہ ہونا اچھی حکمرانی کی علامت ہے۔

امید ہے کہ وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی کی جانب سے شروع کیا گیا یہ سلسلہ محض کھلی کچہریوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عوامی مسائل کے مستقل حل اور اداروں کی کارکردگی میں بہتری کا ذریعہ بنے گا۔ کیونکہ آخرکار حکومت کی اصل کامیابی بڑے دعووں میں نہیں بلکہ عام آدمی کے چھوٹے سے مسئلے کے حل میں نظر آتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Exit mobile version