تاریخی علاقہ سطحِ مرتفع پوٹھوہار کے تین اضلاع کے سنگم پر واقع واحد سرکاری کالج، کارکردگی کے اعتبار سے راولپنڈی ڈویژن بھر کے 107 کالجوں میں سے پہلے سات بہترین کالجوں میں شامل ہو چکا ہے۔ جس کے اعتراف کے طور پر چند سطور سپردِ قلم کی جا رہی ہیں تاکہ ہمارے عوام کو شاید حقیقت کی سمجھ آ سکے کہ بڑے اور نمایاں سائن بورڈوں والے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا تدریسی یا تربیتی معیار کبھی برابر نہیں ہو سکتا۔
تھوڑا تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ لیں کہ گھٹا ٹوپ اندھی فکر کے معاشرتی مقابلے میں ڈوبے لوگ اپنے مستقبل کے حامل بچوں کو ان علم کے تاجر اداروں کے حوالے کریں گے یا پھر اعلیٰ فکری معیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری شعبے کو ترجیح دیں گے۔ موازنہ کر کے فیصلہ قارئین/عوام کے ہاتھ میں ہے۔
تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ 1980ء کی دہائی کے آغاز پر دھرتی سے محبت کرنے والے چند سماجی، سیاسی اور عسکری ہیروز کی تحریک پر راولپنڈی ڈویژن کے تین اضلاع جہلم، چکوال اور راولپنڈی کے سنگم پیر پھلاہی کے مقام پر گورنمنٹ انٹر سائنس کالج پیر پھلاہی کا قیام عمل میں آیا، جو اب گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔
حال ہی میں یہ تعلیمی ادارہ اپنی تاریخ کے ابتدائی دس سالہ معیار پر واپس آنے لگا ہے کیونکہ کالج میں بہترین محنتی تدریسی عملے کی دن رات محنت اور فروغِ علم کا جذبہ دن بدن رنگ لا رہا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں سالِ اول کے داخلوں میں لگاتار 20 فیصد کی شرح سے اضافہ جاری ہے۔ سابقہ روایات کے مطابق اس سال 2026-28ء تعلیمی سیشن میں بھی سالِ اول (فرسٹ ایئر) میں داخلے زور و شور سے جاری ہیں۔
اس حوالے سے علاقہ بھر کے کم آمدنی والے محنت کش عوام کے لیے بہترین مشورہ یہی ہے کہ وہ اپنی نسلوں کی بہتری کے لیے بغیر لٹنے اور لٹوانے، اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے نجی شعبے میں قائم تعلیم کی تجارت پر مبنی اداروں کی بجائے گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی میں داخلے کو ترجیح دیں۔
ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ تاریخ گواہ ہے کہ گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی، جس کا ابتدائی نام گورنمنٹ انٹر سائنس کالج پیر پھلاہی تھا، سے فارغ التحصیل طلبہ میں سے پاکستان کی مسلح افواج میں اعلیٰ عہدے اور اعزازات حاصل کرنے والے افراد شامل ہیں، جن میں جج صاحبان، قانون دان، اور پاکستان مسلح افواج میں ’’شمشیرِ اعزاز‘‘ حاصل کرنے والے بھی موجود ہیں۔ ان عہدوں اور اعزازات کا سہرا گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی کے اساتذۂ کرام کے سر جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سرکاری تعلیمی ادارے میں معیاری تعلیم و تدریس کے ساتھ خوبصورت تربیت کا بھی موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس بات کے ثبوت کے طور پر ایک بہترین مثال پیش ہے کہ 2013ء میں کالج کی مرتب کردہ ہونہار طلبہ پر مشتمل تحقیقی تنظیم ’’البیرونی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کے زیرِ اہتمام ذہنی آزمائش کے مقابلے کے عنوان سے ایک کوئز تقریب منعقد کی گئی، جس کے مہمانِ خصوصی سابق سیکریٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سرگودھا پروفیسر راجہ سلیم انور تھے، جو اسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں سابق پرنسپل کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔
اب قابلِ صد غور بات یہ ہے کہ اس کوئز مقابلے میں شرکت کے لیے گرد و نواح کے علاقوں کے 16 کے لگ بھگ ثانوی سطح کے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو دعوت دی گئی، جن میں سرکاری کے ساتھ نجی شعبے کے تعلیمی ادارے بھی شامل تھے۔ بدقسمتی سے اس خوبصورت ’’کوئز‘‘ مقابلے میں صرف سرکاری اداروں کے ہونہار طلبہ نے شمولیت کا اعزاز حاصل کیا جبکہ پرائیویٹ اداروں میں سے ایک طالبِ علم بھی شامل نہیں ہوا۔
بیان کردہ صورتِ حال کے متعلق تقریب کے نظامت کار، جو یہ قلمی ہی تھا، نے شرکائے تقریب پر واضح کیا کہ دیگر لوگ خوش ہوں گے لیکن نظامت کار خود اپنے اندر سے خوشی محسوس کر رہا ہے کیونکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سرکاری شعبے کا مقابلہ تدریس کے ساتھ تربیت میں نجی (پرائیویٹ) شعبہ کبھی بھی سرکاری (پبلک) شعبے سے نہیں کر سکتا۔
اس کا زندہ ثبوت مذکورہ کوئز مقابلہ ہے، جس میں صرف سرکاری شعبے کے ہونہار طلبہ نے شرکت کی جبکہ نجی شعبے کا ایک طالبِ علم بھی شامل نہیں تھا۔ کیونکہ گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی چکوال کے گرد و نواح میں کم از کم 20 کلومیٹر کے علاقے میں کئی بڑے اور لمبے سائن بورڈوں والے پرائیویٹ تعلیمی ادارے موجود ہیں، لیکن سال گزرنے کے باوجود کبھی کسی نجی تعلیمی ادارے میں، سوائے نتائج شو کے، کوئی تقریری مقابلہ، قومی تہوار کی تقریب، سیرت کانفرنس یا کسی کھیل کے مقابلے تک دیکھنے یا سننے کا موقع نہیں ملا۔
دوسری طرف سرکاری تعلیمی اداروں میں، جیسا کہ گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی میں، ہر قومی تہوار کے موقع پر طلبہ کو غیر نصابی سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ کھیل اور ثقافت کو برابر فروغ دیا جاتا ہے اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ ایسے یادگار مواقع پر کالج میں معمول کے مطابق تقاریب منعقد کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کے اندر پوشیدہ صلاحیتیں نکھارنے کا موقع میسر آتا ہے۔
اس لیے گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی کے چاروں اطراف تین اضلاع راولپنڈی، جہلم اور چکوال کے 10 سے 20 کلومیٹر کے اندرونی علاقوں میں رہنے والے تمام والدین کو اعلیٰ فکری معیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے میٹرک کے بعد سالِ اول میں داخلے کے لیے صرف اور صرف گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی کا انتخاب کرنا چاہیے۔ جتنا زیادہ داخلہ ہوگا، اس قدر محنتی تدریسی اساتذۂ کرام کی حوصلہ افزائی ہوگی اور عوام کا اپنا ادارہ ترقی کی مزید منازل طے کرے گا۔
تحریر: پروفیسر افتخار محمود
پڑوی درویزہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم
فون نمبر 03065430285 – 03015430285
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
