ضلع جہلم میں اتائی ڈاکٹرز کی بھرمار، سادہ لوح عوام کی صحت شدید خطرات سے دوچار

جہلم: ضلع جہلم کی تینوں تحصیلوں، دینہ، سوہاوہ اور پنڈدادنخان میں اتائی ڈاکٹرز کی بھرمار نے سادہ لوح عوام کی صحت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ان علاقوں میں میٹرک پاس ناتجربہ کار افراد نے دیہی علاقوں میں جگہ جگہ جعلی کلینک قائم کر رکھے ہیں، جہاں وہ نہ صرف مریضوں کا علاج کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ خود ساختہ ادویات بھی فروخت کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بیشتر جعلی ڈاکٹروں نے نہ صرف غیر قانونی طور پر کلینکس کھول رکھے ہیں بلکہ اپنے اردگرد غیر معیاری، ناقص اور غیر رجسٹرڈ ادویات کا ذخیرہ بھی جمع کیا ہوا ہے۔

مریضوں کو چیک کرنے کے بعد یہ اتائی ڈاکٹرز اپنی ہی فراہم کردہ ادویات دے دیتے ہیں، جس سے اکثر مریضوں کی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔ متعلقہ محکموں کی عدم توجہی کے باعث یہ غیر قانونی دھندا کھلے عام جاری ہے اور پی ایچ سی (پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن) کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔

عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلع جہلم میں اتائی ڈاکٹروں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کیا جائے، ان کے کلینکس کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ معصوم شہری ان ناتجربہ کار اور غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد کے ہاتھوں مزید نقصان سے بچ سکیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ صحت جیسے حساس معاملے پر خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے اور اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

Exit mobile version