جہلم: شدید گرمی میں بجلی کے بلوں نے عوام کی مشکلات بڑھا دیں، کم آمدن والے صارفین پریشان

جہلم: شدید گرمی اور حبس کے حالیہ موسم میں بجلی کے گھریلو صارفین، خصوصاً دیہاڑی دار، مزدور اور کم آمدن والے طبقے نے حکومت سے بجلی کے ٹیرف سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔

شہریوں کے مطابق موجودہ پالیسی کے تحت اگر کوئی گھریلو صارف ایک ماہ کے دوران 200 یونٹس سے تجاوز کرتے ہوئے 201 یونٹس بجلی استعمال کر لے تو اس پر لاگو ہونے والا ٹیرف تبدیل ہو جاتا ہے، جس کے اثرات آئندہ کئی ماہ تک بجلی کے بلوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محدود آمدن رکھنے والے خاندانوں کے لیے یہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

متاثرہ صارفین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں پنکھے، ایئر کولر اور دیگر ضروری برقی آلات کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے، جس کے باعث معمولی فرق سے بجلی کے یونٹس بڑھ جاتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کا مقصد کسی قسم کی غیر ضروری رعایت حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسی پالیسی متعارف کرانا ہے جو عوامی مشکلات اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ منصفانہ اور سہولت بخش ہو۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام کے باعث معمولی اضافی بجلی استعمال کرنے پر بھی کئی ماہ تک بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے گھریلو اخراجات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر توانائی اور متعلقہ حکام سے مؤدبانہ اپیل کی ہے کہ کم آمدن والے گھریلو صارفین کو ریلیف دینے کے لیے بجلی کے ٹیرف اور پروٹیکٹڈ صارفین سے متعلق موجودہ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گھریلو صارفین کے لیے یونٹس کی حد میں مناسب اضافہ کیا جائے یا ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس کے تحت معمولی اضافے کی صورت میں صارفین کو کئی ماہ تک اضافی مالی بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس حوالے سے عوام دوست اقدامات کیے جائیں تو نہ صرف غریب اور متوسط طبقے کو حقیقی ریلیف ملے گا بلکہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button