نان فائلرز کو بینک سے رقوم نکلوانے پر کتنا ٹیکس دینا ہوگا؟

نان فائلرز کے بینک سے رقوم نکلوانے پر ٹیکس کٹوتی میں اضافہ کردیا گیا ہے، یومیہ 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر ٹیکس 0 اعشاریہ 6 فیصد سے بڑھا کر 0 اعشاریہ 8 فیصد مقرر کردیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد پر بینک سے رقوم نکلوانے پر ٹیکس کٹوتی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

یومیہ 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر 0 اعشاریہ 8 فیصد ٹیکس لاگو ہے، اس سے پہلے یومیہ 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر0 اعشاریہ 6 فیصد ٹیکس عائد تھا۔ ہر بینکنگ کمپنی نان فائلر سے ایڈوانس ایڈجسٹیبل ٹیکس منہا کرنے کی مجاز ہوگی۔

غیرمنقولہ جائیداد کی خرید وفروخت یا منتقلی پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کی گئی ہے۔ پراپرٹی کے خریدار کو ریلیف دینے کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس میں 1 اعشاریہ 5 فیصد کی کمی کردی گئی ہے۔

پراپرٹی کے فروخت کنندہ یا منتقل کرنے والے کے لیے ہرسلیب میں 1 اعشاریہ 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ مقصد فروخت کنندہ کو جائیداد کی فروخت پرحاصل کیپٹل گین کی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ انکم ٹیکس کے سیکشن 236 سی اور 236 کے میں ردوبدل کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق 5 کروڑ روپے مالیت تک کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1 اعشاریہ 5 فیصد ہوگیا، اس سے پہلے 5 کروڑ تک کی پراپرٹی کی خرید پر ٹیکس کی شرح 3 فیصد تھی۔

اس کے علاوہ 10 کروڑ تک کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 3 اعشاریہ 5 سے کم ہوکر 2 فیصد رہ گیا ہے۔ ایک کروڑ سے زائد مالیت کی پراپرٹی خریدنے پر 4 کے بجائے 2 اعشاریہ 5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button