نئے صوبوں کی تشکیل کی بحث میں جہلم کے ترقیاتی مسائل کو بھی ترجیح دینے کی ضرورت

جہلم: نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر زیرِ بحث ہے۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں ترقی کے یکساں مواقع کیسے پیدا کیے جائیں اور ان اضلاع کو حکومتی منصوبہ بندی میں زیادہ اہمیت کیسے دی جائے جو طویل عرصے سے متعدد بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انتظامی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلی کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ آیا اس کے ذریعے مختلف علاقوں کے لیے ترقیاتی منصوبہ بندی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اس معاملے کی اہمیت جہلم جیسے اضلاع کے لیے بھی کم نہیں، جہاں صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات سمیت کئی شعبوں میں مزید توجہ اور بہتر سرکاری خدمات کی ضرورت ہے۔
ضلع جہلم قدرتی وسائل، زرعی سرگرمیوں، معدنی ذخائر اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے، مقامی صنعت کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور گنجائش موجود ہے، تاہم اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مربوط اور مؤثر حکومتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ اگر نئے صوبوں کی تشکیل کے نتیجے میں ترقیاتی وسائل کی تقسیم اور انتظامی ترجیحات کا طریقہ کار تبدیل ہوتا ہے تو جہلم کے لیے بھی اپنے اہم ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
ضلع میں صحت کی سہولیات کا شعبہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں جدید طبی آلات، ماہر ڈاکٹروں، ادویات اور تشخیصی سہولیات کی دستیابی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تحصیلوں اور دیہی علاقوں میں بنیادی مراکزِ صحت کو فعال اور مؤثر بنایا جائے تو مقامی آبادی کو معمولی علاج اور طبی معائنے کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ اسی طرح ہنگامی طبی خدمات اور زچہ و بچہ کی دیکھ بھال کے لیے بھی بہتر انتظامات ضروری ہیں۔ ترقیاتی منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم میں ان ضروریات کو اہمیت دی جائے تو ضلع کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی جہلم کے لیے مزید اقدامات کی گنجائش موجود ہے۔ سرکاری سکولوں میں تدریسی سہولیات کی بہتری، کالجوں میں جدید مضامین کا اضافہ اور فنی تعلیم کے اداروں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو کمپیوٹر، انجینئرنگ، جدید تعمیراتی شعبوں اور دیگر فنی مہارتوں کی تربیت فراہم کی جائے تو ان کے لیے ملازمت اور خود روزگاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔



