جہلم کے پرائیویٹ زچہ بچہ مراکز میں نارمل ڈیلوری کے بجائے آپریشنز کو ترجیح دی جانے لگی

15
جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے پرائیویٹ زچہ بچہ سنٹرز اور گائنی ہسپتالوں میں نارمل ڈیلوری کے بجائے آپریشن کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی بنیادی وجہ زچہ بچہ کے لواحقین سے معمول سے ہٹ کر بھاری رقوم وصول کرنا ہے، کیونکہ نارمل ڈیلوری کی صورت میں صرف طے شدہ فیس ہی وصول کی جاتی ہے، جبکہ آپریشن کے ذریعے کئی گنا زیادہ کمائی ممکن ہو جاتی ہے۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق آپریشن کی صورت میں نہ صرف سرجری کی مد میں اضافی رقم وصول کی جاتی ہے بلکہ ادویات، ٹیسٹوں اور دیگر اخراجات کے نام پر بھی بھاری بل تھما دیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، آپریشن کے بعد زخم بھرنے تک زچہ کو بار بار ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے آنا پڑتا ہے، جو کہ معالجین کے لیے مستقل آمدن کا ایک اور ذریعہ بن چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی مالی لالچ کے باعث مقامی گائنی ہسپتالوں اور زچہ بچہ سنٹرز میں نارمل ڈیلوری کا رجحان تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حاملہ خواتین اور ان کے لواحقین کو اکثر آخری وقت پر بتایا جاتا ہے کہ زچہ کی حالت نارمل ڈیلوری کے قابل نہیں اور فوری آپریشن ناگزیر ہے، جس پر لواحقین زچہ اور بچے کی جان بچانے کے لیے مجبوراً آپریشن پر رضامند ہو جاتے ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل سادہ لوح عوام کے ساتھ کھلی زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائیویٹ زچہ بچہ سنٹرز اور گائنی ہسپتالوں کی سخت مانیٹرنگ کی جائے، نارمل اور آپریشن ڈیلوری کے معیار اور وجوہات کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے اور بے جا آپریشنز کے ذریعے عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ماں اور بچے کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کا سلسلہ روکا جا سکے۔



