محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کا ہزاروں اساتذہ کو سسٹم سے نکالنے کا فیصلہ

جہلم: محکمہ سکول ایجوکیشن نے جہلم سمیت پنجاب بھر میں تین ہزار اساتذہ کو سسٹم سے نکالنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں اساتذہ کی جلد ریٹائرمنٹ کے حوالے سے ایک نئی پالیسی مرتب کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ سکول ایجوکیشن نے خاص طور پر میٹرک تک تعلیم رکھنے والے اساتذہ کو ترجیحی بنیادوں پر ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں پچاس سال عمر کے اساتذہ کو رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کا آپشن فراہم کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ نے ان اساتذہ کا مکمل ڈیٹا بھی جمع کر لیا ہے اور اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
محکمہ سکول ایجوکیشن نے ریٹائرمنٹ پالیسی میں تبدیلی کے لیے چیف سیکرٹری کو تحریری طور پر درخواست ارسال کر دی ہے۔ موجودہ پالیسی کے تحت 55 سال یا اس سے زائد عمر کے اساتذہ کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ (پری میچور ریٹائرمنٹ) کا حق حاصل ہے۔ تاہم نئی پالیسی میں 50 سال کی عمر کے اساتذہ کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ تعلیمی حلقوں میں مختلف آراء کا سبب بن رہا ہے۔ بعض حلقے اس فیصلے کو نظام تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ کے مستقبل اور تعلیم کے شعبے پر اس کے اثرات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ پالیسی کب سے نافذ العمل ہوگی، اس کا اعلان جلد متوقع ہے۔



