آج کے معاشی مسائل کا حل اسلامی نظامِ معیشت میں ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا ہے کہ آج کے معاشی مسائل کا حل اسلامی نظامِ معیشت میں ہے۔ غیر اسلامی نظامِ معیشت میں دولت چند ہاتھوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے جبکہ معاشرے کے دیگر طبقات مفلسی اور غربت کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ اسلامی نظامِ معیشت دولت کو ایک جگہ جمع رہنے نہیں دیتا۔
جمعۃ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے امیر عبدالقدیر اعوان شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے کہا کہ اسلام نے دولت کی منصفانہ گردش کے لیے زکوٰۃ، عشر، صدقات و خیرات اور قربانی کی کھالوں سمیت مختلف ذرائع مقرر کیے ہیں۔ جو مال پورے سال استعمال نہ ہو اس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہے اور اس میں مستحقین کا حصہ مقرر ہے۔ اسی طرح عشر، صدقات و خیرات اور دیگر مالی معاملات کے ذریعے ضرورت مند افراد تک ان کا حق پہنچتا رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان اسلامی اصولوں کو معاشرے میں حقیقی معنوں میں نافذ کیا جائے تو دولت ایک ہی جگہ جمع نہیں رہے گی بلکہ حقدار تک اس کا حق پہنچے گا۔ جب انسان محض دولت جمع کرنے کے بجائے اسے کاروبار اور معاشی سرگرمیوں میں استعمال کرے گا تو اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے سودی نظامِ معیشت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سود نے آج معیشت کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ دولت معاشرے کے مختلف طبقات سے ایک سمت میں منتقل ہو کر مخصوص ہاتھوں میں جمع ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق جب دنیاوی مفاد ہی مقصد بن جائے تو ایسا معاشی نظام پسند کیا جاتا ہے جس کے ذریعے دولت آتی رہے لیکن واپس گردش میں نہ آئے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی وجود مٹی سے بنا ہے لیکن اسے عطا کی گئی حیات اللہ تعالیٰ کے امر سے ہے۔ اللہ کریم نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور اسے اختیار بھی عطا کیا کہ وہ شکر کا راستہ اختیار کرے یا ناشکری کا۔ انسان کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام مبعوث فرمائے گئے اور کتابیں نازل کی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ ارض و سما کا واحد خالق و مالک ہے، جبکہ انسان کو دنیا میں عارضی اختیار امانت کے طور پر دیا گیا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کردہ حدود و قیود کے مطابق اپنی زندگی بسر کرے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے ایمان کی کیفیت کے حوالے سے کہا کہ اگر انسان کو یہ احساس نصیب ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر لمحہ دیکھ رہا ہے اور اس کی ہر بات سن رہا ہے تو اس کے شب و روز اور اعمال میں نمایاں تبدیلی آ جائے گی۔ جب انسان کو یہ یقین ہو کہ اسے اپنے ایک ایک عمل کا اللہ تعالیٰ کے حضور حساب دینا ہے تو وہ اپنے قول و فعل پر ضرور غور کرے گا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ کریم سب کو یہ حضوری اور احساسِ جواب دہی کی کیفیت عطا فرمائے۔
دریں اثناء مرکز دارالعرفان منارہ میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت 5 اور 6 ستمبر کو ماہانہ اجتماع کے موقع پر بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اعلان کے مطابق اتوار کو صبح 11 بجے حضرت شیخ المکرم مدظلہ العالی خطاب فرمائیں گے، جس کے بعد اجتماعی دعا بھی ہوگی۔ منتظمین کی جانب سے پروگرام میں شرکت کی دعوتِ عام دی گئی ہے۔



