پڑی درویزہ: ضلع چکوال کی تحصیل کلر کہار کا معصوم گاؤں ’’ کھرلی ‘‘ آج بھی بجلی جیسی سہولت سے محروم ۔ یاد رہے کہ مذکورہ گاؤں ایم پی اے تنویر اسلم ملک کی ناک کے نیچے آباد ہے۔ گاؤں کے سماجی کارکن طاہر محمود کا شکوؤں بھری باتیں ۔
تفصیلات کے مطابق نواحی ضلع چکوال کی تحصیل کلر کہار کا گاؤں ’’کھرلی ‘‘ جس کی آبادی بارہ سو نفوس پر مشتمل ہے ۔ یونین کونسل نور پور سیتھی کے قرب میں واقع ہے ۔ گاؤں کے سماجی کارکن طاہر محمود نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اطلاعات کے مطابق تحصیل کلر کہار کے اس بد قسمت گاؤں کے لئے کافی عرصہ قبل بجلی کی منظور ی ہو چکی ہے لیکن بجلی کی ترسیل یا تنصیب کا کام مکمل نہ ہونے کی وجہ صرف اور صرف سیاسی کھینچا تانی کا نتیجہ تصور کیا جاتا ہے ۔
طاہر محمود نے مزید بتایا کہ اس بد قسمت گاؤں کھرلی کے متعلق خاص بات یہ بھی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے دیرینہ رہنما ایم پی اے تنویر اسلم ملک کی ناک کے سائے میں آباد ہے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ بجلی کی منظوری کا کوئی واضح ثبوت کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ گاؤں ’’ کھرلی ‘‘ کلر کہار کے میں موجود دو سرکاری تعلیمی اداروں میں بجلی کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے جبکہ باقی گاؤں میں بجلی کے پول پڑے ہیں لیکن نصب کر کے بجلی کی فراہمی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔
اس حوالہ سے انہوں نے ایم پی اے مسلم لیگ ن تنویر اسلم ملک کے لئے یہ گاؤں ایک لمحہ فکریہ قرار دیا ہے کہ پہلے تین الیکشن میں وہ جس حلقہ سے صوبائی الیکشن میں حصہ لیتے رہے تو یہ بد قسمت گاؤں موصوف کو شاید دکھائی تک نہ دیا کیونکہ یہ گاؤں ان کے حلقہ انتخاب میں شامل ہوتا تھا ۔ اب تو وہ دوسرے صوبائی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں لیکن گاؤں کھرلی کی محرومیوں پر توجہ دینا ان کا برابر کا فرض ہے۔
علاقہ بھر کے محنت کش عوام کی طرف سے طاہر محمود نے ایم پی اے مسلم لیگ ن تنویر اسلم ملک سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ گاؤں ’’کھرلی ‘‘ کی بدقسمتی کا کچھ تو احساس کریں اور دھرتی سے پیار کے احساس کے طور پر اس محروم اور بدقسمت گاؤں کی قسمت یاوری کا سبب بنیں اور بجلی جیسی سہولت فراہم کر کے سیاسی عوامی خدمت کا فرض نبھائیں اور اس گاؤں کی بدقسمتی کو خوش قسمتی میں تبدیل کردیں۔
