عید الاضحیٰ کی آمد؛ جہلم میں درجنوں نئی بھکاری بستیاں قائم، شہری ذہنی اذیت میں مبتلا

جہلم: عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی جہلم شہر اور گردونواح میں بھکاریوں کی یلغار شروع ہو چکی ہے۔ درجنوں نئی بھکاری بستیاں قائم ہو گئی ہیں جس کے باعث شہری شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

شہریوں کے مطابق جیسے جیسے قربانی کے دن قریب آ رہے ہیں، ویسے ویسے شہر کے چوکوں، بازاروں اور اہم شاہراہوں پر پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بھیک مانگنے والوں میں خواتین، بچے، دوشیزائیں اور بزرگ شامل ہیں، جو مختلف روپ دھار کر شہریوں سے پیسے بٹور رہے ہیں۔

شکایات میں بتایا گیا ہے کہ بھکاریوں کی یہ "فوج” طلوع آفتاب کے ساتھ ہی شہر پر حملہ آور ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ شہریوں کو دکانوں، گاڑیوں، اور فٹ پاتھوں پر چلنا دشوار ہو چکا ہے، جبکہ ٹریفک کے بہاؤ میں بھی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

اگرچہ حکومت پنجاب کی جانب سے پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف قانون سازی کی جا چکی ہے اور پنجاب اسمبلی سے بل کی منظوری بھی دی گئی ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ کی خاموشی اور عدم توجہی لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔

شہری حلقوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایس پی ٹریفک سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ بازاروں اور عوامی مقامات کو پیشہ ور بھکاریوں سے پاک کیا جا سکے اور شہریوں کو پرسکون ماحول میسر آ سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button