سی سی ڈی مقابلے میں مارے جانے والے تاج محمد عرف تاجو کے اہل خانہ کو ہراساں نہ کیا جائے، کرنل (ر) انور خان آفریدی

جہلم: کرنل (ر) انور خان آفریدی ایڈووکیٹ نے کہا کہ چند ماہ قبل کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارے جانے والے ملزم تاج محمد عرف تاجو کے اہل خانہ کو بلاجواز ہراساں نہ کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
ہائی کورٹ کے معروف قانون دان کرنل (ر) انور خان آفریدی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تاج محمد نے کوئی جرم کیا تھا تو اسے اس کی سزا مل چکی ہے، تاہم اس کے اہلِ خانہ یا عزیز و اقارب کا اس کے فعل سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا انہیں کسی صورت اجتماعی سزا کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ پریس کانفرنس کے دوران تاج محمد عرف تاجو کے بھائی اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان پُرامن، قانون کا احترام کرنے والا اور ریاستی اداروں پر یقین رکھنے والے شہریوں پر مشتمل ہے۔ انصاف کا بنیادی تقاضا ہے کہ کسی ایک فرد کے عمل کی ذمہ داری پورے خاندان پر عائد نہ کی جائے، کیونکہ یہ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ آئینی اور قانونی اصولوں کے بھی منافی ہے۔
کرنل (ر) انور خان آفریدی نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبدالکریم اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ اور قانونی تعاون فراہم کریں، تاکہ کسی بے گناہ کو ذہنی اذیت یا سماجی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پریس کانفرنس کے دوران اہلِ خانہ کی آنکھوں میں دکھ اور بے بسی نمایاں تھی۔ انہوں نے میڈیا کے ذریعے اعلیٰ حکام تک اپنی آواز پہنچاتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ امن پسند اور قانون کے تابع شہری ہیں اور ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرتے آئے ہیں۔
دوسری جانب شہری حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بناتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور متاثرین کے ساتھ انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل تعاون کیا جائے، تاکہ معاشرے میں اعتماد، انصاف اور ریاستی اداروں پر یقین مزید مضبوط ہو سکے۔



