دینہ: تحصیل دینہ کے گلی محلوں اور ہر سڑک پر چلتے پھرتےبم نما گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈر کاکاروبارچل رہا ہے، سیفٹی انتظامات نہ ہونے کے برار، محکمہ سول ڈیفنس خاموش تماشائی بن گیا۔
ضلع جہلم میں ایسے بے شمار واقعات ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع اور بلڈنگ کے نقصانات ہو چکے ہیں لیکن اتنے بڑے نقصانات کے باوجود کوئی موثر حکمت عملی نہیں اپنائی گئی ہے نہ ہی کوئی قانونی بات نافذ العمل ہوئی ہے۔ صرف اتنا کہ حادثات کے بعد محکمہ ہائی الرٹ ہو جاتے ہیں۔
گھریلو سلنڈر کی کم ہوتی قیمتوں کے ثمرات بھی عوام تک نہیں پہنچتے، صرف اعلان اور نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہیں اور کسی ایجنسی پر بھی ریٹ چیکنگ کے لیے ٹیمیں نہیں آتیں اور گلی محلے کی دکانوں پر تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی چیکنگ کے لیے جائے۔
اس حوالے سے گزشتہ کہیں دنوں سے خبریں میڈیا پر گردش کر رہی ہیں مگر کوئی بھی سرکاری محکمہ حرکت میں نظر نہیں آیا، میڈیا نے جب حقائق جاننے کی کوشش کی تو ہوش ربا انکشافات سامنے آئے جن کے سامنے قیمتوں کا مسئلہ کوئی مسئلہ لگتا ہی نہیں۔
پیسے کی ہوس نے ان دکانداروں کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ ان کے سامنے انسانی زندگیوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی۔ زنگ آلود بوسیدہ لوہا، جگہ جگہ ڈینٹ پڑے ہوئے انتہائی غیر معیاری سلنڈروں میں چھوٹے چھوٹے پلانٹوں سے کم وزن کی فلنگ کروا کر شہریوں کی جیبوں پ ڈاکہ تو ڈالا ہی جا رہا ہے۔
اسی کے ساتھ شہری اپنی جیب سے پیسے دے کر انتہائی گھٹیا معیار کے بم نما سلنڈر اپنے گھروں میں لے جانے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دینہ میں کوئی بھی ایسی ایجنسی نہیں جو سرکاری معیار اور وزن کے مطابق عوام کو گیس سلنڈر دے رہے ہوں اس لیے عوامی مفاد میں اعلی حکام، ڈپٹی کمشنر جہلم، اسسٹنٹ کمشنر دینہ بھرپور کارروائی کریں اور عوام کو تحفظ فراہم کریں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکام بالا گیس کی قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ وزن، گیس اور سلنڈروں کے معیار کو بھی سختی سے جانچے کیونکہ دو چار سو کسی نے زیادہ وصول کر بھی لیے تو قابل برداشت ہیں لیکن یہ غیر معیارہ لوہے سے بنے بوسیدہ بم نما سلنڈر کسی بھی وقت انسانی جانوں کے ضیاں کا باعث بن سکتے ہے اور ان بموں سے نہ صرف گھریلو صارفین کی زندگیوں کو خطرہ ہے بلکہ شہر کے بیچوں بیچ ان بموں کی دکانیں کھول کر بیٹھنے والوں نے شہریوں کی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا رکھا ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً کچھ عرصہ پہلے انھیں غیر معیاری سلنڈروں کے باعث جہلم میں ایک بڑا حادثہ واقع ہو چکا ہے اس لیے وقت سے پہلے ہی کسی بڑے حادثے کے رونما ہونے سے پہلے ان تمام چھوٹی بڑی دکانوں کو قانونی طریقے سے کام کرنے کا پابند کیا جائے اور ان کے باقاعدہ لائسنس بنائے جائیں جس سے جہلم کے ریوینیو میں بھی اضافہ ہوگا بالخصوص ہر تندور پر جہاں لکڑی جلائی جاتی ہے وہاں سات سلنڈر کا استعمال بھی ہوتا ہے جو کہ نہایت ہی خطرناک ہے اس پر بھی نظر ثانی کی جائے۔
