2023 میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے چینل عبور کرکے 29437 مائیگرنٹس برطانیہ آئے

لندن: ہوم آفس نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ میں آنے والے غیر قانونی مائیگرنٹس کے بارے میں مکمل تفصیلات جاری کر دیں۔

عارضی اعداد و شمار کے مطابق 2023میں 29437افراد کی آمد ہوئی یہ 2022میں آنے والے غیر قانونی 45774مائیگرنٹس کے مقابلے میں ایک تہائی (36فیصد)سے زیادہ کم ہے۔ موجودہ ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے پہلی بار آنے والے مائیگرنٹس کی کل تعداد میں سال بہ سال کمی آئی ہے۔ اس سے پہلے یہ تعداد ہر سال بڑھتی رہی تھی، 2022میں45774 تک پہنچنے سے پہلے 2018میں 299افراد، 2019 میں 1843، 2020میں 8466اور 2021میں 28526افراد کےانگلش چینل عبور کرنے کا پتہ چلا۔

آنے والے مائیگرنٹس میں افغانوں کا واحد سب سے بڑا گروپ تھا، جو کل تعداد کا 20فیصد تھا یہ قومیت کیلئے دستیاب تازہ ترین اعداد و شمارہیں۔ اس میں یکم جنوری سے 29نومبر 2023کا احاطہ کیا گیا ہے اور یہ وہی تناسب ہے جو 2022میں دیکھا گیا تھا اس کے برعکس البانوی مائیگرنٹس کی آمد کا تناسب تیزی سے کم ہوا ،جوکہ 2022میں 28فیصد سے 2023میں صرف 3فیصد رہ گیا 2023 میں دوسرا سب سے بڑا گروپ ایرانیوں کا تھا، جن کا تناسب 12فیصد ہے جو کہ 2022میں 13 فیصد سے تھوڑا کم تھا۔

2023میں ترک شہریوں کی کل تعداد 11فیصد ہےجوکہ 2022میں صرف 2فیصد تھی جبکہ اریٹیرین باشندوں کی تعداد 9فیصدتھی 2022 کے موسم گرما میں چھوٹی کشتیوں پر برطانیہ پہنچنے والے البانوی شہریوں کی تعداد میں اضافے کے بعد دونوں ممالک کی حکومتوں نے لوگوں کو سفر کرنے سے روکنے کیلئے مل کر کام کرنے کا معاہدہ کیا۔

اس میں یو کے بارڈر فورس کے عملے کو البانیہ کے دارالحکومت کے ترانہ ہوائی اڈے پر رکھنااور سینئر کا تبادلہ شامل ہے، جس کے نتیجے میں البانوی امیگرنٹس کی برطانیہ آمد میں کمی ہوئی جو کہ 2022 میں 12658سے کم ہو کر 1جنوری سے 29 نومبر 2023کے درمیان 922رہ گئی ہے یہ 93 فیصد کمی ہے۔

چھوٹی کشتیوں پر آنے والے لوگوں کی قومیتوں کا مرکب سال بہ سال مختلف ہوتا ہے 2018اور 2019 میں، جب نسبتاً کم کراسنگ ریکارڈ کی گئیں، زیادہ تر آنے والے ایرانی شہری تھے (بالترتیب 80فیصد اور 66 فیصد)2020میں ایک تبدیلی آئی، جس میں ایرانی تب بھی سرفہرست قومیت رہے لیکن آنے والوں کا تناسب کم ہو کر 28 فیصدہوگیا ، اس کے بعد عراقی (19فیصد)، سوڈانی (11فیصد) اور شامی (9فیصد) رہے۔

ایرانی اور عراقی 2021 میں آنے والوں کا نصف سے زیادہ حصہ تھےجبکہ دونوں کی تعدادبالترتیب 30فیصد اور 22فیصد تھی، باقی ممالک کی مجموعی تعداد میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی، جب البانوی (28فیصد) اور افغان (20فیصد) کے ساتھ 2022میں دیگر قومیتوں سے زائد تھے، اس کے بعد 2023میں مزید تبدیلی آئی، جس میں افغانوں اور ایرانیوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔

تمام اعداد و شمار آنے والوں کی کل تعداد پر مبنی ہیں، جہاں ہوم آفس نے قومیت درج کی ہے۔ ہوم آفس نےاس امر کی نشاندہی بھی کی ہے کہ فی کشتی کتنے لوگوں نے انگلش چینل عبور ؟ 2021 کے آغاز کے بعد سے اوسط ایک غیر معمولی رجحان ہے 2018میں فی کشتی 10سے زیادہ افراد سوار تھےجبکہ 2019اور 2020 میں یہ اعداد و شمار سنگل فیگرز اور ہائی ٹینس کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ 2021سے اوسط بڑھنا شروع ہوئی، مارچ میں 20تک اور اگست میں 30سے ​​گزر گئی۔

یہ تعداد جون 2022میں یہ فی کشتی 40افراد تک پہنچ گئی اور 56تک چڑھ گئی۔ چھوٹی کشتیوں کی آمد کے ذریعے پناہ کے دعووں کے لئے تازہ ترین دستیاب ہوم آفس ڈیٹا صرف مئی 2023تک کاہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جولائی 2022سے مئی 2023تک ریکارڈ کئے گئے مائیگرنٹس کی تعداد 40386یں سے 90فیصد (36169) نے برطانیہ میں پناہ کے لئے درخواست دی تھی 2018کے بعد سے چھوٹی کشتیوں سے آنے والوں کی طرف سے دی گئی تمام پناہ کی درخواستوں میں سے تقریباً تین چوتھائی (74فیصد) اب بھی مئی 2023تک زیر غور تھیں 2018سے چھوٹی کشتیوں سے آنے والے، جن کو ابتدائی فیصلہ موصول ہوا تھا، صرف دو تہائی سے کم (65فیصد) کو پناہ گزین کا درجہ یا دوسری قسم کی ریلیف دیا گیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button