آؤٹ سورس اسکولوں کے اساتذہ دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم، اساتذہ سراپا احتجاج

سوہاوہ/ڈومیلی: سوہاوہ کے علاقہ ڈومیلی میں قائم متعدد آؤٹ سورس اسکولوں کی خواتین اساتذہ دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئیں۔ متاثرہ اساتذہ نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور رکی ہوئی تنخواہیں فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احتجاجی اساتذہ نے کہا کہ انہیں پہلے ہی انتہائی قلیل تنخواہ، صرف 15 ہزار روپے ماہانہ دی جاتی ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ معمولی تنخواہ بھی دو، دو ماہ کی تاخیر سے ادا کی جاتی ہے، جس کے باعث انہیں شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اساتذہ نے الزام عائد کیا کہ جب دو ماہ بعد تنخواہیں جاری کی جاتی ہیں تو ان میں بھی مختلف مدات کی آڑ میں غیر ضروری کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں آدھی تنخواہ ہی مل پاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں پندرہ ہزار روپے سے بھی گزارا ممکن نہیں، جبکہ کٹوتیوں کے بعد ملنے والی رقم سے تو صرف روزانہ آنے جانے کے سفری اخراجات ہی بمشکل پورے ہوتے ہیں۔
احتجاجی اساتذہ نے مزید بتایا کہ آؤٹ سورس اسکول مختلف انتظامی مسائل کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق مختلف ٹیسٹوں کے نتائج توقعات کے مطابق نہ آنے پر تمام ذمہ داری اساتذہ پر ڈال دی جاتی ہے۔ بعض اوقات اساتذہ کو نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے یا پھر ان کی تنخواہوں میں بھاری کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں، جس سے وہ شدید ذہنی دباؤ اور معاشی پریشانی کا شکار ہیں۔
اساتذہ نے وزیرِ تعلیم پنجاب، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن، چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، آؤٹ سورس اسکولوں کے سربراہان سے جواب طلبی کی جائے، اساتذہ کی رکی ہوئی تنخواہیں بلا تاخیر ادا کی جائیں اور ان کے جائز حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ وہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنے تدریسی فرائض انجام دے سکیں۔



