جہلم میں موبائل فون رکھنے کے الزام پر بہو پر سسرالیوں کا انسانیت سوز تشدد، تین ملزمان گرفتار

جہلم میں مبینہ طور پر موبائل فون رکھنے کے الزام پر بہو کو سسرالیوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ متاثرہ خاتون کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ پولیس نے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے خواتین سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم میں تھانہ چوٹالہ کے علاقے کھائی کلیہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر موبائل فون رکھنے کے الزام پر سسرالیوں نے اپنی بہو کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ متاثرہ خاتون کو تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال جہلم منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہے۔

متاثرہ خاتون لبنیٰ بیگم کا کہنا ہے کہ اس پر بے بنیاد الزامات لگا کر اس کے کردار پر شک کیا گیا، جس کے بعد اسے مبینہ طور پر برہنہ کر کے لوہے کے گرم پائپوں، راڈ، پلاسٹک کے پائپ اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کے مطابق اس کا شوہر بھی تشدد میں شامل رہا، جو مبینہ طور پر اس کے کان پلاس سے کھینچتا رہا اور گالم گلوچ کرتا رہا۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس کے سسرالی افراد میں شوہر رفاقت علی، جیٹھ صداقت علی، تایا زاد بھائی قمر زمان، ساس اور جیٹھانی شامل تھے، جنہوں نے مبینہ طور پر مل کر اس پر جسمانی اور ذہنی تشدد کیا۔ تشدد کے باعث خاتون کی حالت غیر ہو گئی، جس پر اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ چوٹالہ میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں سے تین ملزمان جن میں شوہر، ساس اور جیٹھانی شامل ہیں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔

عوامی حلقوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین پر تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اور عبرتناک کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے انسانیت سوز واقعات کا سدباب ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button