جہلم میں تجاوزات کے آپریشن سیاست اور افسر شاہی کی نذر ہو گیا

جہلم شہر کے بازاروں اور سڑکوں پر تجاوزات کے خلاف حالیہ آپریشن سیاست اور افسر شاہی کی نذر ہوگیا، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ نادیدہ قوتوں کی مداخلت سے تجاوزات مافیا کو ریلیف مل گیا اور آپریشن مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔

چند ہفتے قبل شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تجاوزات کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا گیا تھا جس کے دوران پختہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔

دکانداروں کو رضاکارانہ طور پر اپنی حدود میں واپس جانے کے لیے نشان دہی کی گئی تھی۔ ان علاقوں میں شامل تھے: مین بازار، نیا بازار، محلہ سلمان پارس، مشین محلہ نمبر 1، پیراغیب قبرستان چوک، راٹھیاں، محلہ پروفیسر کالونی، سٹلائٹ ٹاؤن، مجاہدہ آباد اور باغ محلہ برلب دریا۔

تاہم اس آپریشن کے بعد انتظامیہ نے مذکورہ علاقوں میں تجاوزات کی نشان دہی کرنے کے باوجود اس معاملے کو ٹھپ کر دیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک سائیڈ پر تجاوزات مافیا نے اپنے حدود سے تجاوز کر کے پختہ تعمیرات کر رکھی ہیں، اور ان سائیڈز نے زگ زگ کا منظر پیش کیا ہے، جو کہ مکمل طور پر غیر قانونی ہیں۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا نوٹس لیا جائے اور تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے افسران کے خلاف مقدمات درج کروائے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے اور ملوث افسران کو ضلع بدر کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button