گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ، 5000 روپے تک فروخت ہونے کا انکشاف

دینہ اور گردونواح میں گھریلو گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں مبینہ طور پر من مانا اضافہ شہریوں کے لیے دردِ سر بن گیا۔
تفصیلات کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں جہاں عوام پہلے ہی روزمرہ ضروریاتِ زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، بجلی کے بھاری بلوں اور دیگر اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، وہیں گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو مزید متاثر کر دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ 3600 روپے مقرر ہونے کے باوجود مختلف دکانوں پر گھریلو گیس سلنڈر 4500 سے 5000 روپے تک فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی نرخ ناموں کے باوجود بعض گیس ڈیلرز اور دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں وصول کیے جانے والے نرخوں میں واضح فرق موجود ہے، جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر پڑ رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی کے باعث منافع خور عناصر کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ ادارے مؤثر نگرانی کریں اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں تو عوام کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔
متاثرہ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس سلنڈروں کی فروخت کے مقررہ نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور زائد قیمتیں وصول کرنے والے دکانداروں اور ڈیلرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دیا جانے والا ریلیف اسی وقت عوام تک پہنچ سکتا ہے جب قیمتوں کی مؤثر نگرانی کی جائے اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔



