محرم الحرام میں قیام امن پر ضلعی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، مرکزی علماء کونسل جہلم

جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کا اہم اجلاس زیرِ صدارت حکیم قاری شبیر احمد عثمانی منعقد ہوا جس میں امن و امان، سوشل میڈیا کے کردار اور ملکی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں علماء کرام اور مختلف تحصیلوں سے نمائندہ عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قاری شبیر احمد عثمانی نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران ضلعی انتظامیہ، ڈپٹی کمشنر جہلم اور ڈی پی او جہلم کی جانب سے سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات قابلِ تحسین ہیں۔ علمائے کرام نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر اداروں کو قیام امن پر شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
علماء کرام نے سوشل میڈیا پر نوجوانوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال ملکی امن کی بنیاد بن سکتا ہے، جبکہ اس کا منفی استعمال قوم میں مایوسی اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔ قاری شبیر احمد عثمانی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کو افواجِ پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ کیلئے استعمال نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشت گردی کا مقصد صرف قومی اتحاد کو کمزور کرنا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی علماء کونسل پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔ ان فیصلوں میں شجر کاری مہم کا آغاز اور 14 اگست یومِ پاکستان کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد شامل ہیں۔ اجلاس میں علمائے کرام نے معاشرتی برائیوں کے خاتمے اور امن عامہ کے قیام کے لیے سی سی ڈی (CCD) کی کارروائیوں کو بھی سراہا۔
علاوہ ازیں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردوں کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔ علماء نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے مکروہ عزائم کو بے نقاب کیا جائے اور فتنۃ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔
اجلاس میں مرکزی علماء کونسل ضلع و تحصیل جہلم اور تحصیل دینہ کے عہدیداران و علمائے کرام جن میں حکیم قاری شبیر احمد عثمانی، قاری محمد اشرف، مولانا انس الرحمن، قاری محمد ابراہیم منیر، قاری عبدالوہاب، عبدالرزاق شمیم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، ملک محمد قاسم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، مولانا مرتضیٰ تنویر، قاری ابصار ایوب، مولانا حکیم محمد زبیر، ماسٹر ملک محمد مبارک، مولانا محمد مدثر، حافظ محمد احسان، قاری عاصم عرفان اور شاکر علی شامل ہیں شرکت کی۔



