ضلع جہلم میں پٹواریوں کی قلم چھوڑ ہڑتال جاری، ریونیو امور متاثر

جہلم سمیت پنجاب بھر میں ریونیو فیلڈ اسٹاف اور پٹواریوں کی قلم چھوڑ ہڑتال جاری ہے، جس کے باعث ریونیو دفاتر میں کام شدید متاثر ہو گیا ہے اور عوام کو مختلف امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پٹواری و قانونگو تنظیموں کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ جب تک 2015 میں منظور شدہ سمری پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد نہیں کیا جاتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

ہڑتال کے باعث زمینوں کے انتقالات، ڈومیسائل کی تصدیق، فردات اور دیگر ریونیو معاملات مکمل طور پر متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ دفاتر میں سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

ریونیو فیلڈ اسٹاف کا کہنا ہے کہ حکومت کے اہم منصوبے، جن میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، ڈیجیٹل گرداوری، گندم خریداری مہم اور ٹیکس اہداف کی وصولی شامل ہیں، ان تمام کا بوجھ فیلڈ اسٹاف اپنے کندھوں پر اٹھاتا ہے، مگر اس کے باوجود انہیں بنیادی سہولیات اور مراعات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

مظاہرین کے مطابق 2015 میں پنجاب حکومت کی جانب سے منظور شدہ سمری کے تحت پٹواریوں کے لیے گریڈ 11 اور قانونگوؤں کے لیے گریڈ 14 کا نوٹیفکیشن تو جاری کر دیا گیا تھا، تاہم اس کے ساتھ منسلک الاؤنسز اور دیگر سروس بینیفٹس تاحال نافذ نہیں کیے گئے۔

ریونیو ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں جدید تقاضوں کے مطابق لیپ ٹاپ، اسٹیشنری اور سفری اخراجات (TA/DA) فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی جیب سے سرکاری امور چلانے پر مجبور نہ ہوں۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پٹواری سے نائب تحصیلدار تک پروموشن چینل کو مزید شفاف، واضح اور تیز بنایا جائے۔

انجمن پٹواریاں کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں احتجاج کا شوق نہیں، لیکن جب جائز حقوق اور حکومتی وعدے پورے نہ کیے جائیں تو احتجاج ان کا آئینی حق بن جاتا ہے۔

انہوں نے ممبر بورڈ آف ریونیو لاہور اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 2015 کی منظور شدہ سمری پر فوری عملدرآمد کیا جائے تاکہ ہڑتال ختم ہو اور عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

Exit mobile version