جہلم میں آوارہ کتوں اور چوہوں کی بھرمار، شہریوں کی سلامتی و صحت کو سنگین خطرات لاحق

جہلم شہر اور اس کے قرب و جوار میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین کے لیے روزمرہ زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے مؤثر اور مستقل اقدامات نہ کیے جانے کے باعث یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
محمدی چوک، بلال ٹاؤن، شمالی محلہ، کالا گجران، چونترہ، جکھرالہ، روہتاس روڈ سمیت شہر کے متعدد علاقوں میں آوارہ کتوں کے غول دن اور رات کے اوقات میں گلیوں اور سڑکوں پر دندناتے نظر آتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صبح سویرے اسکول جانے والے بچوں اور بچیوں، کام کاج پر جانے والے افراد اور بالخصوص خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ متعدد مقامات پر کتوں کے بھونکنے اور شہریوں کو دوڑانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث خوف و ہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب شہر کے مختلف محلوں میں گٹروں، نالوں اور کچرا کنڈیوں کے اطراف موٹے چوہوں کی بھرمار نے صفائی کی مجموعی صورتحال پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ شہریوں کے مطابق رات کے اوقات میں چوہے گھروں میں داخل ہو کر خوراک کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ بعض دکانوں اور گوداموں میں بھی اشیائے خوردونوش کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق چوہے مختلف وبائی امراض پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے شہریوں کی صحت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کمیٹی اور متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے بارہا شکایات درج کروائی جا چکی ہیں، مگر تاحال کوئی جامع مہم یا باقاعدہ تلفی پروگرام شروع نہیں کیا گیا۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آوارہ کتوں کی پکڑ دھکڑ کے لیے مؤثر اور مستقل نظام وضع کیا جائے جبکہ چوہوں کے خاتمے کے لیے خصوصی سپرے مہم اور صفائی ستھرائی کے جامع اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری ممکنہ بیماریوں اور دیگر خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔



