پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے بعد مہنگائی بے قابو، تعمیراتی شعبہ بھی ٹھپ

جہلم: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے بعد جہلم سمیت ملک بھر میں مہنگائی نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے اثرات شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ تعمیراتی شعبہ بھی شدید متاثر ہونے لگا ہے اور کام میں کمی کے باعث مزدور طبقہ معاشی مشکلات کا شکار ہو کر فاقوں پر مجبور ہو رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تیل اور گیس مہنگے ہونے کے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیاء کے ساتھ ساتھ تعمیراتی سامان کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب تعمیراتی میٹریل کی قیمتیں بڑھنے سے تعمیراتی کاموں کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے تعمیراتی شعبے کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
شہریوں کے مطابق مہنگائی میں مسلسل اضافے نے پہلے ہی محدود آمدن والے افراد کی مشکلات بڑھا رکھی ہیں، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں مزید اضافے نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ تعمیراتی شعبے میں کام کی کمی کے باعث روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس سے ان کے لیے اپنے اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عام شہریوں کو ریلیف مل سکے اور مزدور طبقے کو معاشی مشکلات سے نجات دلائی جا سکے۔



