نبی کریم ﷺ کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، امیر عبدالقدیر اعوان

سان فرانسسکو: امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ قرآن مجید انسانی زندگی کے تمام سوالات جو ہیں اور جو آنے والے وقت میں پیش آئیں گے ان تمام کے جوابات عطا فرماتا ہے۔آپ ﷺ کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے۔قیامت تک جو حق کا متلاشی ہوگا اسے راہنمائی میسر آتی رہے گی۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے مسجد اے ایم ایل سان فرانسسکو (امریکہ) میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبادت محض رکوع و سجود کا نام نہیں ہے لیکن جب زندگی عبادت سے مزین ہو جائے پھر ساری زندگی رکوع و سجود میں شمار ہو جاتی ہے۔انسان اس کائنات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔زندگی کوئی حادثہ نہیں بلکہ اس کا ایک خاص مقصد ہے اور جو اس مقصد کے حصول کے لیے اللہ کریم کے بتائے ہوئے اصولوں کو اختیار کرے گا و ہ فلاح پائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان کے اندر یہ استعداد موجود ہے کہ وہ اپنے شعوری پہلو سے اپنی ضروریات کو محسوس بھی کرتا ہے اور ان کی تکمیل کے لیے کوشاں بھی رہتا ہے۔اس فطرتی استعداد سے اس حد تک بھی پہنچ سکتا ہے کہ کوئی ایسا ہے جو اس نظام حیات کو چلا رہا ہے جس نے سب کو پیدا فرمایا ہے اور جسے کسی نے پیدا نہیں فرمایا۔کوئی ایک ذات ہے جو اس نظام کو چلا رہی ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اقوام سابقہ کے حالات پڑھ کر یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان کے اعمال کا نتیجہ کیا ہوا جس نے جیسے اعمال کیے ویسے نتائج پائے آج بھی جو جیسے اعمال اختیار کرے گا ویسے نتائج پائے گا۔اللہ کریم نے یہ استعداد ہر ایک کے اندر رکھ دی ہے اور فیصلے کا اختیار بھی دے دیا کہ چاہے تو شکر کا راستہ اختیار کرو چاہے تو نا شکری کرو۔
انہوں نے کہا کہ ہماری عبادات خالص نہیں رہیں اسی لیے نتائج بھی حاصل نہیں ہو رہے۔ہم عبادات کا بدلہ چاہتے ہیں کہ میں نماز بھی پڑھتا ہوں پھر بھی بیماری گھر سے نہیں جاتی،حالانکہ ہم پہلے سے مقروض ہیں۔جو کچھ ہم پہلے سے لے چکے ہیں ساری عمر بھی عبادات کرتے رہیں تو اس کا قرض نہیں اتار سکتے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اللہ کریم نے ہمیں پیدا فرمایا ہم نہیں تھے اس نے ہمیں وجود بخشا اپنی ساری نعمتیں ہمارے لیے پیدا فرمائیں۔ عبادات اس لیے کریں کہ اللہ کریم عبادت کے لائق ہیں۔پھر جس نے دعوت حق قبول کی اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کا کردار اس کے اعمال ایسے ہوں کہ وہ لوگوں تک حق پہنچانے کا سبب بنے ۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔



