پنڈدادنخان میں نجی سکول کی ٹیچر سے مبینہ زیادتی، ملزم فرار، سکول سیل

پنڈدادنخان: نجی سکول کے پرنسپل کے بھانجے نے ٹیچر کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، ملزم فرار، سکول کو سیل کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے علاقے ڈھڈی پھپھرہ میں واقع ایک نجی تعلیمی ادارے میں 18 سالہ ٹیچر سے مبینہ جنسی زیادتی کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ واقعے پر پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا جبکہ ملزم فرار ہو گیا ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

تھانہ پنڈدادنخان میں متاثرہ ٹیچر کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کی 18 سالہ بیٹی (م) الخیر اسٹینڈرڈ سکول میں بطور ٹیچر بچوں کو پڑھانے کے لیے گئی تھی۔ الزام ہے کہ سکول پرنسپل کے بھانجے نعمان علی نے ٹیچر کو یہ کہہ کر ورغلایا کہ پرنسپل صدام اسے دوسرے بلاک میں بلا رہے ہیں۔ بعد ازاں ملزم مبینہ طور پر اسے جھانسے سے ایک خالی مکان میں لے گیا جہاں زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ ٹیچر کا فوری میڈیکل کروایا گیا جس کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد پائے گئے ہیں۔ واقعے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا جبکہ پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر پنڈدادنخان نادیہ پروین نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک عدیل عباس کے ہمراہ نجی سکول کا دورہ کیا اور ڈپٹی کمشنر جہلم کی ہدایت پر الخیر اسٹینڈرڈ سکول کو غیر معینہ مدت کے لیے سیل کر دیا۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نادیہ پروین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے درندہ صفت عناصر کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور قانون کے مطابق انہیں سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک عدیل عباس کا کہنا تھا کہ مقدس ماہِ رمضان میں ایک معلمہ کے ساتھ ایسا گھناؤنا فعل انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ محکمہ تعلیم اس معاملے میں انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔

ڈی ایس پی پنڈدادنخان ملک اکرام نے بتایا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

انتظامیہ اور پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تفتیش جاری ہے جبکہ متاثرہ معلمہ کو ہر ممکن قانونی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button