فتنہ الخوارج کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا، مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم

جہلم: مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم کے زیر اہتمام ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ضلعی صدر مرکزی علماء کونسل ضلع جہلم حکیم قاری شبیر احمد عثمانی نے کی۔
اجلاس میں ضلع جہلم اور اس کی تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور ملک میں امن و امان، دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مکاتب فکر پیغام پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور ترلائی راولپنڈی میں دہشت گردی کے واقعات مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی ایک منظم سازش تھے، جنہیں قومی اتحاد اور باہمی اتفاق سے ناکام بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
حکیم قاری شبیر احمد عثمانی نے واضح کیا کہ عبادت گاہوں پر حملہ آور دہشت گرد مذہب و ملت سے عاری ہیں اور ان کا کسی دین یا مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے جس کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو لسانی، گروہی، مذہبی اور قومی تعصبات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔
اجلاس میں بلوچستان میں غیر ملکی فنڈڈ دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ علماء کرام نے کہا کہ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے، اس کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی مسلک، اور ایسے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت یا نرم گوشہ رکھنا ملک و قوم سے دشمنی اور بغاوت کے مترادف ہے۔
علماء کرام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عظیم قربانیوں پر پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی قوم ملک دشمن عناصر کے خلاف ہر محاذ پر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں حکیم قاری شبیر احمد عثمانی، مولانا انس الرحمن، مولانا ذیشان اسحاق، مولانا محمد عمران، قاری آصف شہزاد، ملک محمد مبارک، قاری محمد ابراہیم منیر، مولانا محمد مدثر، قاری عاصم عرفان، حافظ مرتضیٰ تنویر، قاری ابصار ایوب، ملک فرحان اصغر، مولانا محمد عثمان، ایڈووکیٹ عبدالرزاق شمیم اور ایڈووکیٹ ملک محمد قاسم شامل تھے۔



