عیدالاضحی کی آمد سے قبل ہی جہلم شہر میں بھکاریوں کی بھرمار، شہری پریشان

جہلم: عیدالاضحی کی آمد سے قبل ہی جہلم شہر میں بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جہلم شہر کے مختلف گلی محلوں، بازاروں اور پبلک مقامات پر عورتوں، لڑکیوں، بچوں اور بوڑھوں کی شکل میں بھیک مانگنے والوں کا راج قائم ہو چکا ہے، جس سے شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

بکری عید کے قریب آتے ہی مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے بھکاری گروہ رکشوں پر بیوی بچوں کے ہمراہ جہلم پہنچ چکے ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں ڈیرے جما لیے ہیں۔ ان گروہوں میں شامل خواتین نے نہ صرف خود بھیک مانگنے کو ذریعہ روزگار بنایا ہوا ہے بلکہ اپنے کم سن بچوں اور نوجوان لڑکیوں کو بھی اس مکروہ دھندے پر لگا رکھا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت نے بھیک مانگنے کے خلاف قانون سازی کر رکھی ہے، لیکن اس پر عملدرآمد کہیں بھی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی یلغار نہ صرف ٹریفک اور عام لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ یہ معاشرتی سطح پر بھی تشویش ناک صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

شہریوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شہر اور ضلع بھر میں بھکاریوں کے خلاف بھرپور مہم کا آغاز کیا جائے، ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور اس منظم بھیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہر کو اس بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے سے نجات دلائی جا سکے۔

Exit mobile version