280 روپے میں فروخت ہونے والی ایل پی جی کی اصل قیمت صرف 15 روپے ہونے کا انکشاف

280 روپے میں فروخت ہونے والی ایل پی جی کی اصل قیمت صرف 15 روپے ہونے کا انکشاف، عوام کو اصل ایل پی جی کے بجائے زہریلی گیس کی فروخت جاری، غیر معیاری ایل پی جی کے باعث حادثات میں اضافہ ہونے لگا۔

تفصیلات کے مطابق مارکیٹ میں غیر معیاری اور انتہائی خطرناک گیس کو سستے داموں امپورٹ کر کے مہنگے داموں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس حوالے سے ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے انکشاف کیا ہے کہ ایل پی جی کے نام پر غیر معیاری زہریلی گیس 15روپے کلو میں امپورٹ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سستی گیس امپورٹ کرنے کے باوجود یہ زہریلی گیس 250 سے 280روپے کلو میں عوام کو فروخت کی جا رہی ہے، مخصوص گروہ غیر معیاری ایل پی جی منگوا کر پریشر بڑھانے کے لیے اس میں سی او 2 مکس کر رہا ہے اور یہ مکسنگ آئے دن حادثات کا باعث بن رہے ہیں۔

عرفان کھوکھر نے بتایا کہ ایران کی 5ریفائنریوں پر پابندی عائد ہیں، جن کا زہریلا مواد ضائع کرنے کے بجائے جعلی گڈز ڈیکلریشن پر پاکستان امپورٹ ہو رہا ہے، اگر اس زہریلی گیس کی امپورٹ پر فوری پابندی عائد نہ کی گئی تو موسم سرما کے دوران یومیہ بنیادوں پر ایل پی جی کے نام پر اس غیر معیاری گیس سلنڈرز میں دھماکوں کے حادثات بڑھنے کے خدشات پیدا ہوجائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد منافع خوروں نے اس غیر معیاری گیس کی امپورٹ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں معیاری ایل پی جی امپورٹ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہیں اور موسم سرما میں معیاری ایل پی جی کی قلت پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ نومبر، دسمبر اور جنوری میں ایل پی جی کی ڈیمانڈ 1.5 لاکھ ٹن ہوگی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غیر معیاری زہریلی گیس کی امپورٹ پر فوری پابندی لگائے۔

Exit mobile version