جہلم میں ایل پی جی بحران شدت اختیار کر گیا، گھریلو سلنڈر 6500 روپے تک پہنچ گیا، شہری پریشان

جہلم شہر میں سوئی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلو صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ضلع بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے شہریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ضلع بھر میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر 6000 سے 6500 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام مہنگے داموں گیس خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایل پی جی ری فلنگ پلانٹس مالکان کی من مانی اور مبینہ ذخیرہ اندوزی کے باعث مارکیٹ میں گھریلو سلنڈرز کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ریٹیلرز بھی بھاری جرمانوں اور کارروائیوں کے خوف سے مہنگا سٹاک خریدنے سے گریز کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سپلائی کا بحران مزید سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، تاہم ضلع جہلم کی مارکیٹ میں ایل پی جی 560 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں سرکاری نرخوں پر ایل پی جی دستیاب نہیں جبکہ بعض دکاندار روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 30 روپے فی کلو تک اضافی قیمت وصول کر رہے ہیں۔
متاثرہ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ گھریلو سلنڈر کی قیمتوں میں بے قابو اضافے کے باعث ان کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی، بجلی اور دیگر یوٹیلٹی بلوں کے بوجھ تلے دبے عوام اب کھانا پکانے کے لیے بھی مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں من مانے نرخوں پر ایل پی جی کی فروخت جاری ہے لیکن متعلقہ ادارے اور انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر سرکاری نرخ مقرر ہیں تو ان پر عملدرآمد کیوں نہیں کرایا جا رہا۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ڈپٹی کمشنر جہلم، اوگرا اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل پی جی کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ری فلنگ پلانٹس اور ذخیرہ اندوز عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایل پی جی کی قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو گھریلو صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور متوسط و غریب طبقے کے لیے روزمرہ زندگی کے معمولات چلانا مزید دشوار ہو جائے گا۔



