سول ہسپتال جہلم کے ملازمین 5 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر سراپا احتجاج، کام بند کر دیا

جہلم: ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سینٹری ورکرز پچھلے 5 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر سراپا احتجاج، سینٹری ورکرز نے احتجاجاً کام بند کردیا، سول ہسپتال کے وارڈز میں کچرا کنڈی جمع ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں کمپنی کے سینٹری ورکرز نے جہلم پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے 5 ماہ سے ٹھیکیدار نے تنخواہیں ادا نہیں کیں۔
حکومت پنجاب نے 32 ہزار روپے تنخواہ مقرر کررکھی ہے جبکہ ٹھیکیدار کا سپروائزر نے25 ہزار روپے ماہوار ادا کرنے کا معاہدہ کررکھا ہے لیکن 5 ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں ، جن لوگوں سے ادھار لے رکھاہے اور مالک مکان کرایوں کی ادائیگی کے لئے ہر دوسرے روز دروازوں پر تالے لگا دیتے ہیں۔ تنخواہیں نہ ملنے کیوجہ سے ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔
ایک نوجوان نے بتایا کہ نوبت فاقوں پر پہنچ چکی ہے دو روز قبل بچی کے طلائی زیورات فروخت کرکے گھر کا راشن لیکر آیا لیکن وہ راشن بھی کب تک چلے گا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سینٹری ورکرز نے بتایا کہ حکومت نگہبان رمضان پیکج کے چرچے تو کررہی ہے لیکن ہم میں سے کسی کا نام بھی لسٹ میں شامل نہیں ۔ متعدد مرتبہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر رجوع کیا لیکن انہوں نے ہمارے نام درج کرنے سے انکار کردیا جس کی بنیادی وجہ ہم غریب ہیں۔
سینٹری ورکرز نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق ، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ اور ایڈوائزر صوبائی محتسب اعلیٰ پنجاب جہلم سے مطالبہ کیاہے کہ ہمیں ہماری تنخواہیں دلوائی جائیں تاکہ ہمارے گھروں میں خوشحالی لوٹ سکے۔



