جہلم میں گیسٹرو اور ہیضے کے کیسز رپورٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

جہلم شہر اور گردونواح کے مختلف علاقوں میں گیسٹرو اور ہیضے کے مریض رپورٹ ہونے لگے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق سول اسپتال میں گیسٹرو کے مریض علاج معالجے کے لیے رجوع کر رہے ہیں، جبکہ گزشتہ ماہ جولائی کے دوران بھی گیسٹرو میں مبتلا متعدد افراد نے طبی امداد حاصل کی۔
ڈاکٹرز کے مطابق گیسٹرو سے متاثرہ مریضوں میں بڑی تعداد 5 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ یا غیر محفوظ پانی، غیر معیاری کھانے اور صفائی کے ناقص انتظامات معدے اور آنتوں کی بیماریوں کے پھیلاؤ کا اہم سبب بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سڑکوں اور ریڑھیوں سے غیر معیاری یا کھلے میں رکھا ہوا کھانا کھانے سے گریز کیا جائے، جبکہ بازاروں میں استعمال ہونے والی غیر معیاری برف بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور ہیضہ و ڈائریا سمیت مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ پانی ابال کر یا محفوظ طریقے سے صاف کرکے استعمال کریں، کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھانپ کر رکھیں اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔ خصوصاً بچوں کو باہر کے غیر معیاری کھانے اور مشروبات سے دور رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں خود سے علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند ڈاکٹر یا قریبی طبی مرکز سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
شہریوں نے بھی متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں پینے کے پانی کے معیار، کھانے پینے کی اشیاء اور بازاروں میں استعمال ہونے والی برف کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کی جائے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔



