دوسروں سے فائدہ اٹھانے کی سوچ کو ختم کر کے بے لوث تعلقات کو فروغ دینا ہو گا، امیر عبدالقدیر اعوان

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ موجودہ معاشرے میں باہمی تعلقات کی بنیاد مفادات پر استوار ہوتی جا رہی ہے جبکہ اسلام ہمیں بے لوثی، ایثار اور خالص محبت کا درس دیتا ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں یہ رجحان عام ہو چکا ہے کہ انسان دوسرے سے تعلق صرف اس بنیاد پر رکھتا ہے کہ اسے اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ حالانکہ حقیقی اور بے غرض تعلق وہی ہے جس میں انسان خود دینے والا بنے اور خوشی اس میں تلاش کرے کہ وہ اپنے پاس موجود نعمت کو اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بانٹے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے انبیائے کرام علیہم السلام کو اپنی بارگاہ کے مقربین بنایا اور انہیں وہ علم عطا فرمایا جس کا نہ تو ہم کوئی پیمانہ مقرر کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری اوقات ہے کہ اس کا ادراک کر سکیں۔ آپ ﷺ کی ذات اقدس کو دیگر تمام انبیائے کرام سے زیادہ علوم عطا کیے گئے، اس لیے یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ ایسی عظیم ہستیوں کے متعلق بات کرتے وقت احتیاط برتنا ضروری ہے تاکہ کہیں نادانستہ طور پر گستاخی نہ ہو جائے۔

خطاب میں امیر عبدالقدیر اعوان نے عزت اور آبرو کے مفہوم پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ آبرو اصل میں خالص اصولوں کا تحفظ ہے، جو انسان کو زندگی میں تسکین فراہم کرتی ہے اور یہ تسکین صرف حق کی راہ پر چلنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر معاشرہ اور ہم خود صحیح اور غلط کی پہچان اور اس کا اظہار کرنا چھوڑ دیں، تو یہ روش معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حرام مال سے اجتناب اور صراط مستقیم پر چلنا بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی حفاظت میں لے آتا ہے اور یہ حفاظت ایک بہت بڑی نعمت ہے جو اللہ رب العزت کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے ملک کی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

Exit mobile version