آئیسکو کی بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں میں 95 فیصد ریکوری، اے ٹی اینڈ سی نقصانات سنگل ڈیجٹ میں آ گئے، چیف ایگزیکٹو

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے چیف ایگزیکٹو انجینئر چوہدری خالد محمود نے کہا ہے کہ سال 2025 کے دوران بجلی چوری کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 2,092 ایف آئی آرز درج کی گئیں جبکہ 785 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
اے پی پی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کارروائیاں کے دوران 3,402,341 یونٹس بجلی چارج کی گئی اور بجلی چوری کی مد میں 177,883,215 روپے کی ڈٹیکشن بلنگ کی گئی جس میں سے 168,902,997 روپے وصول کیے گئے۔ اس طرح مجموعی ریکوری کی شرح 95 فیصد رہی۔
ان کا کہنا ہے کہ اے ٹی اینڈ سی نقصانات نیپرا کے مقررہ ہدف کو پورا کرتے ہوئے سنگل ڈیجٹ میں آ گئے ہیں جبکہ راولپنڈی ریجن میں اسٹیٹ آف دی آرٹ 1 اعشاریہ 2 ملین اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کا ہدف بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بہارہ کہو، نیلور، ترنول، گولڑہ اور راول روڈ سمیت بعض علاقوں میں بجلی چوری کے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے تھے، جن کی روک تھام کے لیے اے بی سی (ایریل بنڈل کیبل) سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس سے لائن لاسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔
سرکل وائز اعداد و شمار کے مطابق اٹک سرکل میں سب سے زیادہ 818 ایف آئی آرز درج ہوئیں جبکہ راولپنڈی سٹی میں 318، اسلام آباد میں 303، جہلم میں 133، چکوال میں 237 اور راولپنڈی کینٹ میں 283 مقدمات درج کیے گئے۔ راولپنڈی کینٹ میں ریکوری کی شرح 100 فیصد رہی۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی چوری کے طریقہ کار میں ڈائریکٹ سپلائی یا لوپ کے 1,900 کیسز جبکہ میٹر ٹیمپرڈ، ٹلٹڈ یا شنٹ کے 192 کیسز سامنے آئے۔
چیف ایگزیکٹو آئیسکو نے بتایا کہ آپریشنز ٹیموں اور ایم اینڈ ٹی (میٹر اینڈ ٹیسٹنگ) سرویلنس ٹیموں نے گھریلو، کمرشل، صنعتی اور زرعی شعبوں میں مشترکہ کارروائیاں تیز کر دی ہیں جبکہ بجلی چوری کے خلاف آگاہی مہم کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ بجلی چوری سے متعلق معلومات آئیسکو ہیلپ لائن 118 پر فراہم کریں اور اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر مانیٹرنگ اور عملی اقدامات کے باعث لائن لاسز میں نمایاں کمی آئی ہے اور اے ٹی اینڈ سی نقصانات نیپرا کے مقررہ ہدف کے مطابق سنگل ڈیجٹ میں آ چکے ہیں۔
انہوں نے اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کے حوالے سے پراجیکٹ ڈائریکٹر اے ایم آئی سید محسن رضا گیلانی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں راولپنڈی ریجن میں تقریباً 1.2 ملین میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں غیر قانونی کنکشنز اور لائن لاسز میں واضح کمی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کے بعد صارفین کو درست بلنگ، خودکار میٹر ریڈنگ، بجلی چوری پر قابو، سسٹم کی اوور لوڈنگ میں کمی اور ٹرانسفارمرز و میٹرز کے جلنے کے واقعات میں کمی آئی ہے جبکہ ادارے کی مجموعی مالی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے ٹرانسفارمرز پر بھی اسکیننگ میٹرز نصب کیے گئے ہیں جس سے نظام میں شفافیت اور مؤثر نگرانی کو فروغ ملا ہے۔
مزید برآں وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کے وژن کے مطابق صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے آئیسکو ہیڈ آفس، جی-9 اور مڈیر چوک سمیت مختلف مقامات پر کسٹمر فیسلٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں بلوں کی قسطوں کی سہولت، مقررہ تاریخ میں توسیع، بل کی اصلاح، نام و پتہ کی تبدیلی، شکایات کے اندراج اور نئے کنکشن کے لیے درخواستیں جمع کرانے سمیت دیگر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان مراکز میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے صارفین کو فوری اور مؤثر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔



