جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، مریض اور لواحقین شدید مشکلات کا شکار

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے مریضوں اور ان کے لواحقین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے آئے روز قیمتوں میں اضافے کے باعث علاج معالجہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، جس پر شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
شوگر، بلڈ پریشر، دل کے امراض اور دیگر وبائی و دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے، جبکہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کے لیے علاج جاری رکھنا انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ مریضوں کے مطابق بعض ضروری ادویات کی قیمتوں میں قلیل مدت میں بار بار اضافہ کیا گیا، جس سے مالی دباؤ ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔
دوسری جانب میڈیکل اسٹور مالکان کا کہنا ہے کہ ادویات ساز کمپنیوں کی جانب سے نئے نرخ نامے جاری کر دیے جاتے ہیں، جن کے مطابق ادویات خریدنا اور فروخت کرنا ان کی مجبوری ہے۔ ان کے مطابق میڈیکل اسٹورز کو بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوام کی شکایات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ قیمتوں کے تعین میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر پالیسی مرتب کی جائے اور جان بچانے والی ادویات کو عام آدمی کی دسترس میں رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، تاکہ مریض بلا رکاوٹ اپنا علاج جاری رکھ سکیں۔
شہریوں اور مریضوں نے وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے۔



