جہلم کا مرکزی قبرستان نشئیوں کا اڈہ بن گیا، قبروں کا تقدس پامال، پولیس خاموش تماشائی

جہلم شہر کا مرکزی قبرستان منشیات فروشوں اور نشئیوں کی آماجگاہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ قبرستان میں نہ صرف نشہ آور اشیاء کا استعمال ہو رہا ہے بلکہ ان کی فروخت بھی کھلے عام جاری ہے، جس سے قبرستان کا تقدس بری طرح پامال ہو رہا ہے۔
شام ڈھلتے ہی قبرستان میں نشہ کرنے اور فروخت کرنے والے گروہ آ جاتے ہیں اور قبروں کے قطبوں کی اوٹ میں بیٹھ کر نشہ کرتے ہیں۔ بزرگ نشئیوں کے ساتھ ساتھ نوجوان لڑکے بھی اس مکروہ عمل میں ملوث ہیں۔
متعدد افراد قبرستان میں خود کو نشے کے انجکشن لگاتے دیکھے گئے جبکہ بعض آئس کا نشہ کر کے قبروں پر مدہوش پڑے رہتے ہیں، جس سے نہ صرف قبرستان کی بے حرمتی ہو رہی ہے بلکہ شہریوں کے لیے خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔
اہل علاقہ کے مطابق نشئیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث قبرستان میں آنے والے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مقامی پولیس قبرستان کو نشئیوں سے پاک کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور قبرستان کے تقدس کو بحال کرنے کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔



