سرکاری سکولوں میں طویل عرصے سے تعینات اساتذہ کو ہٹانے کا فیصلہ

جہلم: محکمہ سکول ایجوکیشن نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری سکولوں میں طویل عرصہ سے تعینات اساتذہ کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اپ گریڈ ہونے والے سکولوں میں تخلیق کی گئی 26 ہزار نئی آسامیاں پرانے اور سرپلس اساتذہ سے پر کی جائیں گی، جبکہ کسی بھی نئی آسامی پر نیا ٹیچر بھرتی نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ تمام آسامیاں ریشنلائزیشن کے عمل کے تحت پر کی جائیں گی، اور اس مقصد کے لیے محکمہ سکول ایجوکیشن نے اپ گریڈ سکولوں میں ایس این ای کے مطابق واچ لسٹ کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت سکول انفارمیشن سسٹم میں مختلف رنگوں کی مدد سے سکولوں کی ٹیچنگ صورتحال ظاہر کی جائے گی: پیلا رنگ سرپلس اساتذہ، سرخ رنگ اساتذہ کی کمی، اور سبز رنگ اساتذہ کی تعداد میں توازن کو ظاہر کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پروموشن اور ڈسپوزل پر موجود اساتذہ کے تبادلوں کے بعد خودکار نظام کے تحت ریشنلائزیشن کا عمل متحرک ہو جائے گا، جس کے تحت سرپلس اساتذہ کو ان سکولوں میں ٹرانسفر کیا جائے گا جہاں اساتذہ کی کمی ہے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے بنائی گئی ریشنلائزیشن پالیسی فی الحال کیبنٹ سے منظوری کی منتظر ہے، جس کے بعد اس پر باضابطہ عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔ تعلیمی ماہرین نے اس اقدام کو تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار بہتر بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button